کبھی کبھی ایک قوم کی پوری تاریخ ایک نیزے کی نوک پر آ کر ٹھہر جاتی ہے۔
پھر ایک دن وہی نیزہ فضا کو چیرتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ وہ فاصلے نہیں ناپتا، تاریخ رقم کرتا ہے۔ 92.97 میٹر… یہ صرف ایک تھرو نہیں تھی؛ یہ پاکستان کی دہائیوں پر محیط محرومیوں، شکستہ خوابوں اور ایک گمنام دیہاتی نوجوان کے عزم کی بلند ترین پرواز تھی۔
اس لمحے دنیا نے ایک نیا اولمپک چیمپئن دیکھا، مگر پاکستان نے اپنے ایک ایسے بیٹے کو پہچانا جس نے ثابت کر دیا کہ قدرت جب کسی انسان کو غیر معمولی صلاحیت عطا کرتی ہے تو وسائل کی کمی بھی اس کے راستے کی آخری دیوار نہیں بن سکتی۔
مگر تاریخ ایک اور سبق بھی دیتی ہے۔
قومیں ہیرو پیدا کم کرتی ہیں، اور کھو زیادہ دیتی ہیں۔
گلاسگو کامن ویلتھ گیمز 2026 کے جیولن تھرو مقابلے میں پاکستان کے اولمپک ہیرو ارشد ندیم فائنل میں نویں نمبر پر رہے اور ٹاپ آٹھ میں جگہ نہ بنا سکے۔ دوسری جانب سری لنکا کے رومیش تھارانگا پاتھیراج نے 89.75 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیت کر اپنے ملک کو بیس برس بعد کامن ویلتھ گیمز کا طلائی اعزاز دلایا۔ بھارت کے نیراج چوپڑا نے سلور میڈل حاصل کیا، جبکہ ان کے ہم وطن یَش ویر سنگھ نے برونز میڈل اپنے نام کیا۔
یہ صرف تمغوں کی تقسیم نہیں تھی، بلکہ ایشیائی جیولن تھرو کی بدلتی ہوئی طاقت کا اعلان بھی تھا۔ کبھی پاکستان اس میدان کا علمبردار تھا، آج سری لنکا اور بھارت نئی توانائی، نئی تیاری اور نئے اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے کھڑے ہیں۔
یہ کھیل ہے۔ یہاں جیت بھی ہوتی ہے اور شکست بھی۔ مگر اصل سوال ہار کا نہیں، سفر کا ہے۔
یہ شکست کسی ایک تھرو کی شکست نہیں، بلکہ ہمارے دروازے پر دستک دیتی ایک خاموش حقیقت ہے۔ کیونکہ چیمپئن ایک دن میں نہیں بنتے، اور نہ ہی ایک دن میں ختم ہوتے ہیں۔ ان کے عروج اور زوال کے درمیان ہمیشہ ایک پورا نظام، ایک سوچ، ایک منصوبہ بندی اور ایک مسلسل سفر کھڑا ہوتا ہے۔
کبھی ارشد ندیم کی دوڑ میں بجلی کی سی روانی تھی۔ اس کے قدم میدان پر نہیں، جیسے ہوا کے دوش پر چلتے تھے۔ جسم کی لچک اعتماد کی زبان بولتی تھی اور نیزہ ہاتھ سے نہیں، روح سے نکلتا محسوس ہوتا تھا۔ پیرس اولمپکس میں اس کی اٹھان ہی فتح کا اعلان تھی۔
مگر آج…
گلاسگو کے میدان میں اسی دوڑ میں ایک خاموش سی تھکن دکھائی دی۔ قدم تو وہی تھے، مگر ان میں پہلے جیسی بے ساختگی نہ تھی۔ جسم وہی تھا، مگر اعتماد میں کہیں ہلکی سی دراڑ محسوس ہوئی۔ نیزہ فضا میں ضرور بلند ہوا، مگر اس بے خوفی کے ساتھ نہیں جس نے کبھی دنیا کو حیران کر دیا تھا۔
یہ فیصلہ نہیں، صرف ایک مشاہدہ ہے۔
یہ الزام نہیں، ایک لمحۂ فکر ہے۔
آخر وہی ارشد، جس نے دنیا کے عظیم ترین ایتھلیٹس کو پیچھے چھوڑ دیا تھا، آج اپنی ہی بہترین سطح سے اتنا دور کیوں دکھائی دیتا ہے؟
یہ سوال صرف ارشد ندیم سے نہیں۔
یہ سوال پاکستان کے کھیلوں کے پورے نظام سے ہے۔
ہم نے ایک ایسا نوجوان دیکھا جس نے مٹی کے میدانوں سے دنیا کی بلند ترین چوٹی تک کا سفر اپنی محنت، عزم اور استقامت سے طے کیا۔ مگر کیا ایک اولمپک چیمپئن کو وہ سائنسی کوچنگ، جدید تربیت، بایومکینکس، فزیوتھراپی، سپورٹس سائیکالوجی، غذائیت اور طویل المدتی منصوبہ بندی میسر آئی، جو دنیا اپنے چیمپئنز کو فراہم کرتی ہے؟
یا پھر حسبِ روایت ہم نے ایک تاریخی کامیابی کے بعد اپنے ہیرو کو اعزازات، تصویروں، تقریبات اور بیانات کے ہجوم میں چھوڑ دیا؟
یہ کسی ایک فرد، کسی ایک کوچ یا کسی ایک ادارے پر الزام نہیں، بلکہ اجتماعی خود احتسابی کی دعوت ہے۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، متعلقہ فیڈریشنز، کھیلوں کے منتظمین، پالیسی ساز، میڈیا اور ہم سب…
کیا ہم نے اپنے ہیرو کے گرد وہ حفاظتی حصار تعمیر کیا جو دنیا اپنے عالمی چیمپئنز کے گرد بناتی ہے؟
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم آئینے میں خود کو دیکھیں۔
کیونکہ تلخ حقیقت یہی ہے کہ ہمارے ہاں اکثر عالمی معیار کے کھلاڑی اپنی غیر معمولی صلاحیت کے بل پر عالمی چیمپئن بنتے ہیں، نظام کے بل پر نہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی آج دو پاکستان دکھائی دیے۔
ایک وہ، جو ارشد ندیم کو ایک مقابلے کی بنیاد پر ناکام قرار دے رہا تھا، اور دوسرا وہ، جو یہ کہہ رہا تھا کہ اگر ارشد آج کے بعد ایک بھی تمغہ نہ جیتیں، تب بھی قوم ان کی احسان مند رہے گی۔ شاید حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں کھڑی ہے۔
ارشد ندیم کو اندھی تعریف کی ضرورت نہیں، بے رحم تنقید کی بھی ضرورت نہیں۔ انہیں ایک ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں ایک چیمپئن کو سمجھا جائے، اس کی کارکردگی کا سائنسی تجزیہ کیا جائے، اور اسے وہ سہارا دیا جائے جو دنیا اپنے عظیم کھلاڑیوں کو دیتی ہے۔
آج ایک سوال پاکستان اسپورٹس بورڈ کے دروازے پر بھی دستک دے رہا ہے۔
جب ایک اولمپک گولڈ میڈلسٹ اپنی بہترین سطح برقرار نہ رکھ سکے تو کیا ادارے اپنی کارکردگی کا بھی جائزہ لیتے ہیں؟ کیا منصوبہ بندی، نگرانی، احتساب اور نتائج بھی کبھی اجلاسوں کی میز پر زیر بحث آتے ہیں، یا ہر ناکامی کو ایک مقابلے کی شکست سمجھ کر اگلی فائل کھول دی جاتی ہے؟
ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں، اور جب ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو قومیں صرف تمغے نہیں ہارتیں، نسلوں کا اعتماد بھی ہار جاتی ہیں۔
اولمپک کا طلائی نیزہ جب پاکستان آیا تو پورا ملک اس کے استقبال میں کھڑا تھا، مگر کیا اس نیزے کی پرواز کو برقرار رکھنے کے لیے بھی کوئی اسی خلوص سے کھڑا تھا؟ یا ہمارا نظام ہمیشہ کی طرح ایک اور ہیرو کو اس کے اپنے حال پر چھوڑ کر اگلے تماشے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا؟
آج پاکستان کے کھیلوں کا سب سے بڑا مسئلہ شاید وسائل کی کمی نہیں، بلکہ سمت کا بحران ہے۔
ہمیں کھیلوں کے منتظم چاہیے یا صرف منتظمین؟
ہمیں وژن رکھنے والے پالیسی ساز چاہیے یا فائلیں سنبھالنے والے اہلکار؟
ہمیں میدانوں کی دھول سے واقف لوگ چاہیے یا صرف ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں فیصلے کرنے والے؟
یہ سوالات تلخ ضرور ہیں، مگر ان سے نظریں چرانا ممکن نہیں۔
اسی لیے آج ایک سوال وفاقی سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ، جناب محی الدین وانی صاحب کے سامنے بھی کھڑا ہے۔
پاکستان ہاکی کی بحالی کے لیے ان کی سنجیدہ کوششیں امید کی ایک کرن ہیں۔ مگر کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کی مجموعی کارکردگی، اس کی پالیسیوں، نتائج اور انتظامی ڈھانچے کا آزاد، شفاف اور کڑا احتساب کیا جائے؟ کیا صرف ادارے ہی نہیں بلکہ ان عہدوں پر موجود افراد کی اہلیت، پیشہ ورانہ صلاحیت، کارکردگی اور کھیلوں سے عملی وابستگی کو بھی غیر جانبدارانہ پیمانے پر جانچا جائے؟
اگر احتساب واقعی کارکردگی کی بنیاد پر ہو تو شاید پاکستان اسپورٹس بورڈ کی راہداریوں میں برسوں سے گردش کرتی سرگوشیوں، شکوک اور تحفظات کو بھی زبان مل جائے، اور یہ واضح ہو سکے کہ ہمارے عالمی معیار کے کھلاڑیوں کو مسلسل عالمی معیار پر برقرار رکھنے میں کمزوریاں کہاں پیدا ہوئیں۔
اگر ایک اولمپک چیمپئن کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو ان سوالات کا رخ صرف کھلاڑی کی طرف نہیں، نظام کی طرف بھی ہونا چاہیے۔ کیونکہ ایک ادارے کی اصل کامیابی صرف ایک ہیرو پیدا کرنا نہیں، بلکہ مسلسل ہیروز پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک نسل تیار کرنا ہوتی ہے۔
اگر آج بھی ہم نے اپنے کھیلوں کے ڈھانچے کو ازسرِنو نہ دیکھا تو شاید کل کوئی اور ارشد ندیم پیدا تو ہو جائے، مگر منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ادارہ جاتی کمزوریوں کے بوجھ تلے دب جائے۔
بقولِ علامہ اقبالؒ:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔
ارشد ندیم آج بھی پاکستان کا فخر ہیں۔
ایک مقابلہ ان کی عظمت کم نہیں کر سکتا، ایک ناکام دن ان کے اولمپک گولڈ میڈل کی چمک ماند نہیں کر سکتا، اور ایک شکست ان کے نام سے وابستہ تاریخ کو مٹا نہیں سکتی۔
مگر یہ شکست ہمیں آئینہ ضرور دکھا سکتی ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قدرت ہیرا عطا کر سکتی ہے، مگر اسے تراشنا، سنبھالنا اور اس کی چمک برقرار رکھنا قوموں اور اداروں کا کام ہوتا ہے۔
ارشد ندیم ایک میڈل کا نام نہیں۔
وہ ایک سوچ ہے۔
وہ ایک خواب ہے۔
وہ اس یقین کا نام ہے کہ پاکستان کی مٹی آج بھی ایسے سپوت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو دنیا کے بلند ترین اسٹیج پر سبز ہلالی پرچم لہرا سکتے ہیں۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔
ہم اس ہیرے کو مزید چمکائیں گے، یا اپنی بے حسی، کمزور منصوبہ بندی، غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور ادارہ جاتی غفلت کے باعث اس کی چمک مدھم ہوتی دیکھتے رہیں گے؟
کیونکہ…
تاریخ ہیرو پیدا نہیں کرتی، قومیں کرتی ہیں۔
اور پھر…
یا انہیں اپنے سر کا تاج بنا لیتی ہیں، یا خاموشی سے وقت کی گرد میں گم ہونے دیتی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ارشد ندیم ہار گئے۔
اصل سوال یہ ہے… کہیں ہمارا نظام تو شکست نہیں کھا گیا؟