وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا غیر قانونی کان کنی کے خلاف کریک ڈاؤن، ترقیاتی اصلاحات، بلدیاتی انتخابات اور 16 ارب روپے کے کلائمیٹ منصوبے پر زور
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس اور مختلف اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں عوامی فلاح، شفاف طرزِ حکمرانی، قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی، معدنیات اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ایکٹ میں ضروری ترامیم کی جا رہی ہیں، جبکہ رواں سال پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کو بھی فعال بنایا جائے گا۔
انہوں نے بلدیاتی انتخابات کو حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوکل گورنمنٹ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے آزاد امیدواروں کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کا حق دیا جا رہا ہے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر حکومت سے مشاورت کے بعد نئی انتخابی تاریخ کا اعلان کریں گے۔
کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بل، لوکل گورنمنٹ الیکشن (ترمیمی) بل 2014 اور گلگت بلتستان ریونیو ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل کو اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری بھی دے دی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ کو محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے ڈونرز کے تعاون سے شروع کیے جانے والے 16 ارب روپے مالیت کے کلائمیٹ ریزیلینس پروجیکٹ پر بریفنگ دی گئی۔ منصوبے کے تحت محفوظ اور ماحول دوست تعمیرات، صاف پانی، سیوریج نظام، آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی اور قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کے لیے محفوظ گھروں کی تعمیر جیسے منصوبے شامل ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور محفوظ رہائش کو منصوبے کا لازمی حصہ بنایا جائے، جبکہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی مکمل میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت کی جائے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ امجد حسین نے گلگت بلتستان میں *غیر قانونی کان کنی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس اور سیکریٹری معدنیات و معدنی وسائل کو ہدایت کی کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے اور اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والی تمام مشینری اور آلات قانون کے مطابق ضبط کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے معدنی وسائل قومی اثاثہ ہیں اور ان کی غیر قانونی نکاسی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
انسپکٹر جنرل پولیس نے وزیراعلیٰ کو یقین دہانی کرائی کہ محکمہ معدنیات کو غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے ہر ممکن افرادی قوت اور انتظامی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ قانون کی عملداری اور معدنی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ معدنیات اور پولیس کے درمیان مؤثر رابطے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی کان کنی کی بروقت نشاندہی اور روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے سیکریٹری معدنیات کو تمام غیر فعال (Dormant) مائننگ لیزز اور لائسنسوں کا جامع جائزہ لینے اور قانون کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لانے کی بھی ہدایت کی، تاکہ معدنی وسائل کا شفاف، پائیدار اور قومی مفاد کے مطابق استعمال یقینی بنایا جا سکے۔