ہمارے نیلے سیارے کا تحفظ: سمندری تحفظ اور محفوظ بحری علاقوں کے لیے پاک بحریہ کا عزم
تحریر: نازیہ رحیم
ہر سال عالمی یومِ سمندر کے موقع پر دنیا بھر میں سمندروں کی بے پناہ اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ زمین کی سطح کے ستر فیصد سے زیادہ حصے پر پھیلے ہوئے سمندر عالمی آب و ہوا کو متوازن رکھنے، ہماری سانس کے لیے ضروری آکسیجن پیدا کرنے، حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے اور اربوں انسانوں کے لیے خوراک اور روزگار فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم اپنی بے مثال اہمیت کے باوجود سمندر آج غیر معمولی خطرات سے دوچار ہیں جن میں حد سے زیادہ ماہی گیری، قدرتی مسکن کی تباہی، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے عالمی یومِ سمندر دو ہزار چھبیس کا موضوع "ہمارے نیلے سیارے کے لیے مضبوط سمندری محفوظ علاقے” مقرر کیا ہے، جو زمین پر زندگی کے تسلسل کے لیے صحت مند سمندروں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
سمندر موسمی نظام کو منظم رکھنے، سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور عالمی تجارت و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ لیکن بڑھتی ہوئی سمندری آلودگی، سمندری وسائل کا بے دریغ استعمال، ساحلی علاقوں کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلیاں سمندروں کی صحت کے لیے سنگین خطرات بن چکی ہیں۔ اس دن کی مناسبت سے مضبوط سمندری تحفظ، پائیدار بحری سرگرمیوں اور ساحلی و سمندری ماحولیاتی نظام کے مؤثر تحفظ کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ اور مضبوط سمندر یقینی بنائے جا سکیں۔
سمندری محفوظ علاقے ایسے مخصوص بحری خطے ہوتے ہیں جہاں انسانی سرگرمیوں کو سمندری ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے محدود یا منظم کیا جاتا ہے۔ مضبوط ترین سمندری محفوظ علاقوں، جنہیں مکمل طور پر محفوظ یا "نو ٹیک ریزرو” بھی کہا جاتا ہے، میں تجارتی ماہی گیری، کان کنی اور کھدائی جیسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوتی ہے۔ سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مؤثر انداز میں قائم کیے گئے سمندری محفوظ علاقے حیاتیاتی تنوع میں اضافہ کرتے ہیں، مچھلیوں کی آبادی بحال کرتے ہیں، اہم قدرتی مساکن کا تحفظ کرتے ہیں اور ماحولیاتی نظام کو زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ محفوظ پانیوں میں سمندری حیات زیادہ بہتر انداز میں نشوونما پاتی ہے، افزائش نسل کرتی ہے اور اردگرد کے علاقوں میں مچھلیوں اور ان کے لاروے کے پھیلاؤ کے ذریعے سمندری وسائل کی بحالی میں مدد دیتی ہے۔ اس طرح مضبوط سمندری محفوظ علاقے صرف تحفظ کے اقدامات نہیں بلکہ سمندر اور اس پر انحصار کرنے والی آبادیوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں۔
پاکستان کی سمندری سرحدوں کے محافظ کی حیثیت سے پاک بحریہ ہمیشہ ماحولیاتی پائیداری اور سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے سرگرم رہی ہے۔ مینگرووز کے جنگلات کی ماحولیاتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاک بحریہ نے حکومتی اور ماحولیاتی اداروں کے تعاون سے ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مینگرووز شجرکاری مہمات چلائی ہیں۔ اب تک سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں لاکھوں مینگرووز پودے لگائے جا چکے ہیں، جو کاربن کے اخراج کے اثرات کم کرنے، سمندری پانی کی زمین میں دراندازی روکنے اور سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ جنگلات مقامی آبادی کے روزگار میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے مقابلے میں قدرتی مزاحمت کو مضبوط بناتے ہیں۔
اس کے علاوہ پاک بحریہ باقاعدگی سے ساحلی صفائی مہمات، ماحولیاتی آگاہی پروگراموں اور عوامی شمولیت کی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہے جن کا مقصد سمندری آلودگی میں کمی اور عوام میں ماحول دوست شعور کو فروغ دینا ہے۔ تعلیمی پروگراموں، سیمینارز اور سول اداروں کے اشتراک سے منعقد ہونے والی سرگرمیوں کے ذریعے پاک بحریہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
پاک بحریہ پاکستان کے سمندری علاقوں میں نگرانی، مشاہدے اور مؤثر نفاذ کے ذریعے بحری سلامتی اور سمندری ماحول کے تحفظ کو بھی یقینی بناتی ہے۔ اس کی فعال موجودگی سمندری آلودگی، غیر قانونی فضلہ پھینکنے اور سمندری وسائل کے غیر قانونی استحصال جیسی سرگرمیوں کی روک تھام میں مدد دیتی ہے۔ مزید برآں، پاک بحریہ سمندری سلامتی، بحری مواصلاتی راستوں کے تحفظ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور ماحولیاتی تحفظ کے قومی و بین الاقوامی اقدامات میں بھی بھرپور کردار ادا کرتی ہے۔
اپنے فعال اقدامات اور پائیدار بحری سرگرمیوں سے وابستگی کے ذریعے پاک بحریہ پاکستان کے ساحلی اور سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے اپنی مستقل ذمہ داری کا عملی مظاہرہ کر رہی ہے۔ عالمی یومِ سمندر دو ہزار چھبیس اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سب مل کر سمندروں کے تحفظ اور بقا کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔ اس ضمن میں پاک بحریہ ایک ذمہ دار اور متحرک ادارے کے طور پر موسمیاتی اقدامات اور ماحولیاتی پائیداری کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور پائیدار سمندر یقینی بنائے جا سکیں۔
جب دنیا عالمی یومِ سمندر دو ہزار چھبیس کو "ہمارے نیلے سیارے کے لیے مضبوط سمندری محفوظ علاقے” کے عنوان سے منا رہی ہے تو سمندری وسائل کے تحفظ اور ان کے پائیدار انتظام کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ مضبوط سمندری محفوظ علاقے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، روزگار کے ذرائع کے تحفظ اور سمندروں کی طویل مدتی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ مینگرووز کی بحالی، سمندری تحفظ، ماحولیاتی آگاہی اور بحری سلامتی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کے ذریعے پاک بحریہ پاکستان کے ساحلی اور سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔ یہ موقع حکومتوں، اداروں، مقامی برادریوں اور افراد کے لیے ایک نئے عزم کا پیغام ہے کہ وہ مل کر سمندری تحفظ کی کوششوں کو مزید مضبوط بنائیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف، صحت مند اور زیادہ محفوظ نیلا سیارہ یقینی بنائیں۔