کیا آپ رات کو 7 سے 8 گھنٹے سونے کے باوجود بھی خود کو تھکا ہوا محسوس کرتے ہیں؟
اگر ایسا ہے تو اس کی وجہ نیند کا دورانیہ نہیں بلکہ اس کا ناقص معیار ہو سکتا ہے۔
اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق کے مطابق درمیانی عمر کے ہر 10 میں سے 7 افراد بے خوابی یا سلیپ اپنیا جیسے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔
پاکستان کی سکیورٹی اور قومی استحکام کیلئے گڈ گورننس ناگزیر ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سلیپ اپنیا ایک ایسا عارضہ ہے جس میں نیند کے دوران سانس بار بار رکتی ہے، جس سے خراٹوں کے ساتھ مختلف طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق درمیانی عمر کے افراد میں نیند کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جن کی ایک بڑی وجہ ملازمت سے وابستہ ذہنی دباؤ ہے۔
ناقص نیند کے باعث ڈیمینشیا، ڈپریشن، کینسر اور دیگر دائمی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اس تحقیق میں 50 سے 66 سال کی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا، جن کی صحت اور نیند کا ایک سال تک جائزہ لیا گیا۔
اسمارٹ واچز اور سوالناموں کے ذریعے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ تقریباً تمام شرکا کو رات میں بار بار جاگنے یا ناقص معیار کی نیند کا سامنا تھا۔
اگرچہ زیادہ تر افراد نے کم وقت سونے کو اپنی تھکاوٹ کی وجہ قرار دیا، تاہم تحقیق سے معلوم ہوا کہ اصل مسئلہ نیند کا بار بار متاثر ہونا تھا۔
تحقیق میں شامل 90 فیصد افراد رات کے دوران جاگ جاتے تھے، حالانکہ وہ مجموعی طور پر ساڑھے 6 سے 8 گھنٹے تک سوتے تھے۔
لگ بھگ 70 فیصد افراد کو نیند کے مسائل کا سامنا تھا، جبکہ تقریباً 92 فیصد میں نیند سے متعلق کسی نہ کسی عارضے کی نشاندہی ہوئی۔
محققین کے مطابق تھکاوٹ کی بڑی وجہ نیند کا کم دورانیہ نہیں بلکہ اس کا بار بار متاثر ہونا ہے، جس سے جسم اور دماغ کو مکمل آرام نہیں مل پاتا۔
بعد ازاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ان عوامل کی نشاندہی کی گئی جو نیند کے معیار کو متاثر کرتے ہیں، جن میں ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی اور شور کی آلودگی نمایاں ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ ملازمت سے وابستہ ذہنی دباؤ خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد میں نیند کے مسائل کی اہم وجہ بن رہا ہے۔