افغانستان سے ملکر دہشتگرد حملہ آور ہوتے ہیں، خاتمے تک جنگ جاری رہے گی: شہباز شریف
(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک) : کوئٹہ میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے اور سنگین واقعات پیش آئے، تاہم سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 54 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان واقعات میں پولیس، پاک فوج کے جوانوں اور شہریوں نے جام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت مکمل طور پر یکسو ہے اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔
مون سون، ہیٹ ویو اور اربن فلڈنگ کا خدشہ، تمام ادارے الرٹ رہیں: مریم نواز
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی جانب سے انہیں اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی خارجی عناصر ملوث ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج کے افسران اور جوانوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیاں دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہیں، جبکہ گزشتہ سال مئی میں معرکۂ حق کی کامیابی بھی دشمن کو کھٹک رہی ہے۔ انہوں نے اظہارِ یقین کیا کہ شہداء کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور پاکستان جلد ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے شرکت کی۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے درجات کی بلندی اور ان کے لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔