(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک) : اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ بعض شہروں میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مون سون بارشوں سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور بروقت موسمی پیشگوئی کے لیے ارلی وارننگ سسٹم کو مکمل طور پر فعال بنایا جا رہا ہے۔
کیا ذیابیطس کے مریض آم کھا سکتے ہیں؟
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک رہیں، جبکہ ریسکیو اور دیگر ادارے اپنی موک ایکسرسائزز کا سلسلہ جاری رکھیں۔
مریم نواز نے کہا کہ گزشتہ سال آنے والے شدید سیلاب سے سبق سیکھتے ہوئے تمام ضروری حفاظتی اقدامات کیے جا چکے ہیں، جبکہ مویشیوں کے لیے خوراک کا بھی انتظام مکمل کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ہیٹ ویو اور موسم کی صورتحال سے متعلق عوام کو بروقت آگاہی اور ایڈوائزری جاری کی جائے، اور شہری بزرگوں، خواتین اور بچوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بارش کا پانی فوری نکال دیا جاتا ہے، جبکہ دیگر صوبوں کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ وہاں بارش کا پانی کھڑا رہتا ہے۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ کاہنہ جیسے سانحات کی روک تھام کے لیے "اپنا گھر، محفوظ گھر” پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت پنجاب بھر کے شہری درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ اس اسکیم کے تحت 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض بھی فراہم کیا جائے گا۔