وزیراعظم اور ایرانی صدر کی پریس کانفرنس، مشترکہ امن کوششوں کا اعادہ
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز فارسی زبان میں اظہارِ خیال اور ایک شعر سے کیا، جس پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور ان کے وفد نے مسکراتے ہوئے تالیاں بجا کر بھرپور پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ "دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ہاتھ تھامے” اور اس موقع پر پاکستان اور ایران کے درمیان گہری دوستی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔
قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیدی
شہباز شریف نے ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان ایک عظیم ملک کے عظیم رہنما ہیں اور بطور ڈاکٹر انسانیت کے لیے ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کیے اور امن کے قیام کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششیں کیں۔
وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کیا، تاہم جنگ کے دوران قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس بھی ظاہر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران ہزاروں سال پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ پاکستان ایران کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور اس کے نقصان کو اپنا نقصان سمجھتا ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بعض شرپسند عناصر امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ انہوں نے پاکستان اور ایران کی دوستی کی دائمی استحکام کے لیے دعا بھی کی۔
اس موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے شاندار میزبانی پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور اپنی تقریر کا آغاز مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے شعر سے کیا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان صرف ایران کا ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ایک بھائی اور قریبی دوست بھی ہے، جبکہ دونوں ممالک "یک جان، دو قالب” کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور تہران کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مستقبل کی بنیاد پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ واقعات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے اور مذاکراتی عمل میں پاکستان نے انتہائی مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو انتہائی تعمیری قرار دیا اور دورۂ پاکستان کی دعوت پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک تجارت، معیشت، ثقافت، سلامتی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔