پشاور سے جاری بیان میں مشیرِ خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ بجٹ دستاویزات میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز کی رقم غلطی سے 4 ارب 40 کروڑ روپے درج ہو گئی تھی، جس کی بعد ازاں تصحیح کر دی گئی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز 50 کروڑ روپے سے کم کر کے 40 کروڑ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
ایم کیو ایم نے وزیراعظم کو مطالبات پیش کردیے، شہباز شریف کی کمیٹی بنانیکی ہدایت
دوسری جانب صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے مطالباتِ زر پر اپنی کٹوتی کی تحاریک واپس لینے سے انکار کیا، تاہم ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے مطالباتِ زر پر ووٹنگ کرائی۔
ووٹنگ کے بعد ایوان نے مطالباتِ زر کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کو متعلقہ محکموں کے انتظامی اور مالی امور چلانے کے لیے درکار فنڈز کی پارلیمانی منظوری حاصل ہو گئی۔