اپوزیشن ارکان کیخلاف نااہلی ریفرنس، سینئر (ن) لیگی رہنما اسپیکر پنجاب اسمبلی سے ناخوش
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 ارکان کے خلاف نااہلی ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنے پر مسلم لیگ (ن) کے بعض سینئر رہنما اسپیکر ملک محمد احمد خان کے طرز عمل سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے ذرائع کے مطابق اسپیکر کی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے ملاقات پر بھی پارٹی کے اندر اختلاف رائے پایا جا رہا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے چند اہم رہنماؤں نے پارٹی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے ہنگامہ آرائی قابل مذمت ضرور ہے، تاہم معطلی ہی کافی تھی۔ ان کے مطابق نااہلی ریفرنس دائر کرنا ایک "انتہائی قدم” ہے جس کی اس وقت ضرورت نہیں تھی۔
واضح رہے کہ 3 جولائی 2025 کو اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل سے تعلق رکھنے والے 26 ارکان کے خلاف نااہلی ریفرنس جمع کرایا۔ یہ ارکان گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ مریم نواز کی اسمبلی میں آمد کے موقع پر احتجاج اور شور شرابے میں ملوث تھے، جس کے نتیجے میں انہیں معطل کر دیا گیا تھا۔
اسپیکر نے 28 جون کو اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ وہ معطل ارکان کے خلاف قانونی کارروائی کے تحت نااہلی ریفرنس بھجوائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن ارکان اپنے لیڈر کی بات نہیں مانتے تو اسپیکر کی حیثیت سے آئینی اختیار رکھتے ہیں کہ وہ ریفرنس بھیجیں، اور اس ضمن میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا فیصلہ واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
ادھر پارٹی کے اندر کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ اسپیکر کو اس حد تک نہیں جانا چاہیے تھا، اور اس اقدام نے سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے۔