دنیا بھر میں خواتین کے مقابلے میں مردوں میں کینسر کے کیسز کی شرح زیادہ ہوتی ہے، حالانکہ اس بیماری کا خطرہ دونوں میں تقریباً یکساں ہوتا ہے۔ یہ فرق مختلف ممالک میں دیکھنے کو ملتا ہے، تاہم اس کی وجوہات اب تک واضح نہیں ہوسکی تھیں۔

ایک حالیہ طبی تحقیق میں مردوں اور خواتین میں کینسر کے کیسز کی تعداد میں فرق کی وجوہات جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ جرنل جے اے ایم اے آنکولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں چین اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
محمد رضوان کی این سی سی آئی اے میں دوبارہ طلبی،عدم پیشی پر کارروائی کا عندیہ
تحقیق میں چین کے شہر شنگھائی سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ 34 ہزار سے زائد افراد جبکہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 4 لاکھ 55 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ مردوں اور خواتین پر مشتمل اس ڈیٹا میں کینسر کی 34 اقسام کی شرح کا جائزہ لینے کے بعد اس کا 11 ایسے عوامل سے موازنہ کیا گیا جو کینسر کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں حیاتیاتی جنسی فرق، جیسے جینز، ہارمونز اور مدافعتی نظام کو اس فرق کی ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا تھا۔ کچھ تحقیقات میں روزمرہ کی عادات، جیسے تمباکو نوشی، ناقص غذا، میٹابولک امراض، ذیابیطس اور موٹاپے کو بھی ممکنہ عوامل قرار دیا گیا۔
نئی تحقیق میں شامل افراد میں تمباکو نوشی، الکحل کا استعمال، غذا اور مخصوص طبی مسائل سمیت 11 عوامل کا جائزہ لیا گیا۔ ان افراد کی صحت کا ایک دہائی سے زائد عرصے تک مشاہدہ کیا گیا اور اس دوران دیکھا گیا کہ کتنے افراد میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ طرز زندگی کے انتخاب مردوں میں کینسر کے کیسز کی تعداد میں اضافے کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ مردوں اور خواتین میں کینسر کے کیسز کی تعداد کے فرق میں 85 فیصد حصہ طرز زندگی کے عوامل کا تھا، جبکہ باقی 15 فیصد فرق حیاتیاتی عوامل یا نامعلوم وجوہات سے منسلک تھا۔
تحقیق کے مطابق چین میں تمباکو نوشی مردوں میں کینسر کا خطرہ بڑھانے والا سب سے بڑا عنصر تھا، جو مردوں اور خواتین کے کینسر کیسز میں 52 فیصد فرق کا باعث بنتا ہے۔ الکحل کا استعمال مردوں میں 15.1 فیصد کیسز سے منسلک تھا، جبکہ یہ دونوں عادات خواتین کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔
ان دونوں عادات کے علاوہ جگر کے دائمی امراض اور پھلوں کا کم استعمال بھی مردوں میں کینسر کے خطرے میں اضافے سے منسلک پایا گیا۔ برطانیہ میں مردوں اور خواتین میں تمباکو نوشی اور الکحل کے استعمال کی شرح تقریباً یکساں تھی، جس کے باعث وہاں کی صورتحال چین سے مختلف رہی۔
برطانیہ میں میٹابولک مسائل، جیسے موٹاپا، مردوں میں کینسر کے زیادہ کیسز میں 8 فیصد فرق کا باعث بنا، جس کے بعد تمباکو نوشی 6.26 فیصد اور ٹائپ ٹو ذیابیطس 3.51 فیصد کے ساتھ نمایاں عوامل رہے۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ مردوں اور خواتین میں کینسر کے کیسز کی شرح میں فرق صرف حیاتیاتی وجوہات کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا تعلق مختلف ممالک کی ثقافتی عادات اور مجموعی صحت سے بھی ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق مستقبل کی تحقیقات میں ماحولیاتی عوامل سمیت دیگر ممکنہ وجوہات کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔



