اسپتال میں کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش
اسلام آباد: سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کے سربراہ اور سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان نے سانحہ پمز سے متعلق رپورٹ وزیراعظم کو جمع کرادی۔ رپورٹ رات گئے وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کے دفتر میں جمع کرائی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ توقیر شاہ نے رپورٹ وزیراعظم کو بھجوا دی ہے اور انہیں رپورٹ کے مندرجات اور سفارشات سے بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔
سڈنی میراتھون میں 24 پاکستانی اور پاکستانی نژاد رنرز ایکشن میں ہوں گے
انکوائری کمیٹی کے ذرائع نے رپورٹ وزیراعظم آفس بھجوائے جانے کی تصدیق کردی ہے، جبکہ رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے کا اختیار وزیراعظم کو دے دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ پر انکوائری کمیٹی کے تمام اراکین کے دستخط موجود ہیں، جبکہ کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا بھی تعین کردیا ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ رپورٹ میں ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں کے دوران پیش آنے والے مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پمز کا متعلقہ عملہ جو حادثے کے وقت غیر حاضر تھا، ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے مختلف سفارشات بھی رپورٹ میں شامل کی گئی ہیں۔
رپورٹ کا حصہ پمز انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے انٹرویوز بھی ہیں، جبکہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں پمز اسپتال میں علاج معالجے کے معیار اور ناکافی سہولیات کا بھی ذکر موجود ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی وزیراعظم کو سفارش بھی کی گئی ہے۔