Gas Leakage Web ad 1

گل پلازہ کی انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے، سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری

0

محکمہ داخلہ سندھ نے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری کردی ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

رپورٹ میں کمیشن نے حادثے میں مختلف فریقین کی ذمہ داریوں کا تعین کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمارت خطرناک ہونے اور فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کے باوجود تجارتی استعمال میں رہی، جبکہ گل پلازہ کی انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے۔ 2024 اور 2025 کی سول ڈیفنس کی رپورٹس میں فائر سیفٹی آلات کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
امن کمیٹی لکی مروت کی متوازی پولیس فورس یاغیرقانونی مسلح گروہ کےطور پرکام نہ کرنےکی یقین دہانی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سول ڈیفنس کی رپورٹ میں عمارت میں آتش گیر مادے کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی تھی، جبکہ خارجی راستوں کی خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔ آگ کی اطلاع فائر بریگیڈ کو دینے میں انتہائی غیر دانشمندانہ تاخیر کی گئی، بجلی منقطع ہونے سے عمارت میں اندھیرا ہوگیا اور بالائی منزلوں سے باہر نکلنے کے امکانات مزید کم ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق عمارت میں اسپیکر سسٹم موجود ہونے کے باوجود اسے استعمال نہیں کیا گیا۔ گل پلازہ کے ریگولرائزڈ پلان میں 1102 دکانیں شامل تھیں، تاہم حقیقت میں 1153 دکانیں موجود تھیں اور ان دکانوں میں بڑی مقدار میں آتش گیر تجارتی سامان رکھا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ اپنے رسپانس کے مقررہ معیار کے برخلاف جائے وقوعہ پر پہنچنے میں تاخیر کا شکار ہوئی۔ عمارت میں تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد مؤثر فائر فائٹنگ شروع ہوئی، جبکہ پانی کی کمی اور ری فلنگ کے عمل نے فائر فائٹنگ اور ریسکیو کارروائیوں کو متاثر کیا۔ فائر اسٹیشنز پر پانی موجود ہونے کے دعوے کے باوجود ابتدائی مرحلے میں پانی کی مؤثر فراہمی نہ ہونا ایک اہم انتظامی سوال ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2024 اور 2025 میں سامنے آنے والے نقائص کو دور کرنے کے لیے کارروائی نہیں کی گئی۔ 2025 میں عدالتوں کے فعال ہونے کے بعد بھی قانونی کارروائی کو آگے نہیں بڑھایا گیا۔ سول ڈیفنس کی ناکامی خطرے سے لاعلمی نہیں بلکہ عملدرآمد نہ کروانے کی ناکامی ہے، جبکہ ایس بی سی اے شکایت کی بنیاد پر معائنے کے مؤقف سے اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.