ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے دی، جس کے بعد میزبان ٹیم نے سیریز میں برتری حاصل کر لی۔
برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو جیت کے لیے 211 رنز کا ہدف دیا تھا، تاہم قومی ٹیم ہدف کے تعاقب میں صرف 120 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ لاہور اور کشمور نہیں بنے گا: بیرسٹر گوہر
پاکستان کی جانب سے کپتان بابر اعظم کے علاوہ کوئی بھی بیٹر نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکا۔ بابر اعظم 58 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ اذان اویس، امام الحق اور شان مسعود 3،3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ سلمان آغا بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔
علی عثمان نے 2، خرم شہزاد نے 4 رنز بنائے، جبکہ عامر جمال اور محمد علی صفر پر آؤٹ ہوئے۔ پاکستان کے 8 کھلاڑی ڈبل فیگرز میں بھی داخل نہ ہو سکے۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ مجموعی طور پر ٹیسٹ میں ٹیم نے اچھی کرکٹ کھیلی، تاہم آخری روز بیٹنگ لائن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔
بابر اعظم کا کہنا تھا کہ نئی گیند سے مشکلات کا اندازہ تھا، مسلسل وکٹیں گرنے سے دباؤ بڑھا، تاہم 211 رنز کا ہدف حاصل کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم اگلے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی کے ساتھ کم بیک کرنے کی کوشش کرے گی۔
اس سے قبل میچ کے چوتھے روز ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز 7 وکٹوں کے نقصان پر 126 رنز سے کیا اور پوری ٹیم 181 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح ویسٹ انڈیز کو مجموعی طور پر 210 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے 5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ خرم شہزاد اور محمد علی نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز میں 311 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں پاکستان کی ٹیم 282 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔
پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی پاکستان کو مشکلات کا سامنا رہا تھا، جبکہ میچ کے تیسرے دن ویسٹ انڈیز نے 7 وکٹوں کے نقصان پر 126 رنز بنا کر پاکستان کے خلاف 155 رنز کی برتری حاصل کر لی تھی۔