Gas Leakage Web ad 1

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدےکو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

0

ٹرمپ نے سعودی عرب کے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کر دیا

Gas Leakage Web ad 2

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں شمولیت سے مشروط کر دیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے سول جوہری معاہدے میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل اسی طرز پر جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر بعض ممالک کے سول جوہری پروگرام ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی، تاہم اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔

مودی کو ڈیڑھ ماہ بعد ہوش آگیا، امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کردیا

اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے اور اب اس کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مدت 30 سال ہوگی اور اس کی مالیت کئی ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو توانائی کے شعبے میں جدید جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق اس سے مستقبل میں سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس تجویز پر کئی برسوں سے بات چیت جاری تھی۔ ایک مرحلے پر بائیڈن انتظامیہ کی خواہش تھی کہ سعودی عرب کو یہ ٹیکنالوجی صرف اسی صورت میں دی جائے جب وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، تاہم سعودی عرب اس شرط کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔

دوسری جانب اسرائیل میں اس معاہدے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق سابق وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اس معاہدے کو اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک تباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بالآخر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی جانب لے جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو اس معاہدے کی بھرپور مخالفت کرنی چاہیے کیونکہ اگر یہ معاہدہ نافذ ہو گیا تو مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

لائبرمین نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ جوہری معاہدہ ہرگز قابل قبول نہیں، کیونکہ ہر فوجی جوہری پروگرام کا آغاز ایک سول جوہری پروگرام سے ہوتا ہے، جس کی مثال ایران ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینا ایک سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہوگا۔

اسرائیلی اخبار ہرٹز کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ معاہدہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔

ہرٹز کے مطابق ایک اسرائیلی ذریعے نے کہا کہ اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو یہ اسرائیل کے لیے مثبت پیش رفت نہیں ہوگی، چاہے اس کے ساتھ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کا اعلان ہی کیوں نہ کیا جائے۔

معاہدہ ابراہیمی کا تصور پہلی بار 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں سامنے آیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینا اور بالخصوص مسلم دنیا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔

معاہدہ ابراہیمی دراصل اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے معاہدوں کا مجموعہ ہے، جس کا مقصد سفارتی تعلقات کا قیام، ایک دوسرے کے ممالک میں سفارت خانے کھولنا، اقتصادی تعاون اور سکیورٹی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس معاہدے کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے ہوا، بعد ازاں مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے اسی نوعیت کے معاہدوں پر دستخط کیے۔

گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ قازقستان نے بھی باضابطہ طور پر معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.