امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم **ایکس** پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں نے تقریباً سات گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور ساحلی دفاعی نظاموں پر انتہائی درست ہتھیاروں سے حملے کیے۔
سینٹکام کے مطابق کارروائی امریکی وقت کے مطابق رات 10 بجے شروع کی گئی، جس کا مقصد ایران کی تجارتی بحری جہازوں اور ان کے شہری عملے کے لیے خطرہ پیدا کرنے کی صلاحیت کو مزید محدود کرنا تھا۔
امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف مسلسل چوتھی رات فضائی حملے کیے گئے، جبکہ اس سے قبل ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والے جہازوں کی بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ شروع کی گئی تھی۔
سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد یہ فضائی کارروائی کی گئی اور آبنائے ہرمز میں تعینات امریکی افواج ہر وقت چوکس ہیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے **ارنا** کے مطابق امریکی بمباری کے دوران عراق کی سرحد کے قریب ضلع دہلوران میں واقع معدنی پانی تیار کرنے والے ایک پلانٹ کے قریب تین میزائل گرے، جس سے فیکٹری کی عمارت اور آلات کو نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق بدھ کی علی الصبح ہونے والے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم پیداواری تنصیبات متاثر ہوئیں۔