پنجاب حکومت نے یورپی کوالیفکیشن فریم ورک (EQF) کے معیار کے مطابق فنی تعلیم کا نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 34 ارب روپے کی لاگت سے **”امپروونگ ورک فورس ریڈینس”** منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق منصوبے کے تحت 2029 تک 19 تکنیکی اور ووکیشنل اداروں کو **سینٹرز آف ایکسی لینس** میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ 90 ہزار نوجوانوں کو عالمی معیار کی فنی مہارتوں کی تربیت فراہم کی جائے گی۔
منصوبے میں 8 تیزی سے ترقی کرنے والے صنعتی شعبوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تربیتی پروگرام تیار کیے جائیں گے، تاکہ نوجوانوں کے لیے پاکستان سمیت عالمی سطح پر روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو سکے۔
حکام کے مطابق منصوبے میں خواتین کی جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں شمولیت بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ پنجاب کی افرادی قوت کو عالمی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ پنجاب بھر میں ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (TEVTA) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ رواں مالی سال کے دوران اس منصوبے پر 10 ارب روپے تک خرچ کیے جانے کا امکان ہے۔
حکام کے مطابق نوجوان آن لائن پورٹل کے ذریعے منصوبے میں رجسٹریشن اور درخواست دے سکیں گے۔ پنجاب حکومت اس سے قبل نوجوانوں کے لیے **پرواز کارڈ پروگرام** بھی متعارف کرا چکی ہے۔