Gas Leakage Web ad 1

پاکستان ریلویز کی 31 حادثات کی انکوائریاں التوا کا شکار، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی نہ ہو سکی

0

لاہور: پاکستان ریلویز ٹرین حادثات کی روک تھام میں مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہا، جبکہ ان حادثات کی تحقیقات بھی مقررہ وقت میں مکمل نہ ہو سکیں۔ متعدد انکوائریاں مکمل ہونے کے باوجود اعلیٰ حکام کی جانب سے مختلف اعتراضات لگا کر انہیں مؤثر کارروائی تک نہیں پہنچنے دیا گیا، حالانکہ قواعد کے مطابق غفلت اور لاپروائی کے ذمہ دار افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے تھی۔

Gas Leakage Web ad 2

ایکسپریس نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025 سے 10 جون 2026 تک ملک بھر میں 31 سے زائد مسافر اور مال بردار ٹرینیں مختلف حادثات کا شکار ہوئیں، جن میں پٹری سے اترنے، تصادم، کھڑی گاڑیوں سے ٹکرانے اور پاور پلانٹ وین میں آگ لگنے جیسے واقعات شامل ہیں۔

بلوچستان میں آپریشن، فتنۃ الہندوستان کے 19 دہشتگرد ہلاک، مقابلے میں فورسز کے 11جوان شہید

ان حادثات کے بعد ابتدائی تحقیقات کی گئیں اور فیڈرل انویسٹی گیشن آفیسر کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ان ٹیموں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، مسافروں اور ریلوے ملازمین کے بیانات قلم بند کیے، شواہد اکٹھے کیے اور تفصیلی رپورٹس تیار کرکے چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز، چیئرمین ریلوے اور وفاقی وزیر ریلوے کو ارسال کیں۔

تاہم ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان تحقیقات کی بنیاد پر غفلت کے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

ریلوے ذرائع کے مطابق صرف رواں سال ہی نہیں بلکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پیش آنے والے متعدد حادثات کی تحقیقات بھی مکمل ہو چکی ہیں، تاہم ان میں سے بیشتر رپورٹس پر اعتراضات عائد کرکے دوبارہ انکوائری کا حکم دیا گیا۔ دوبارہ تحقیقات مکمل ہونے کے باوجود بھی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکی۔

دستاویزات کے مطابق مئی 2025 سے 10 جون 2026 تک کراچی ڈویژن میں پیش آنے والے حادثات کی 12، سکھر ڈویژن کی 11، لاہور ڈویژن کی 2، راولپنڈی ڈویژن کی 4 جبکہ پشاور اور کوئٹہ ڈویژن کی ایک، ایک انکوائری تاحال زیر التوا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹس میں حادثات کی متعدد وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں ریلوے پھاٹک موجود ہونے کے باوجود شہریوں کی جانب سے کراسنگ عبور کرنا، رولنگ اسٹاک یعنی بوگیوں اور دیگر ریلوے آلات کی خستہ حالی، ریلوے انفراسٹرکچر کی بوسیدہ حالت، بجٹ میں ناکافی فنڈز، ریلوے ٹریک اور تنصیبات کے اطراف رہائشی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، ملازمین کی نااہلی، بدانتظامی، روایتی غفلت اور دہشت گردی کے واقعات شامل ہیں۔

اس معاملے پر ترجمان وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ انکوائریاں ابھی جاری ہیں، اور جیسے ہی وہ مکمل ہوں گی، اس حوالے سے میڈیا کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.