فتنہ الہندوستان کا بلوچستانیت سے کوئی تعلق نہیں، 4 روز میں 54 دہشتگرد مارے گئے: ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کا بلوچستانیت سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ان دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ان کارروائیوں کو افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی حاصل ہے۔
ایمریٹس ایئرلائن کے مسافر سالانہ 10 لاکھ کلو چاکلیٹ کھا جاتے ہیں!
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ منگی ڈیم اور کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے میں بھی دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا، تاہم بلوچستان کے عوام اور پولیس اہلکاروں نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ ان کے مطابق زیارت میں کارروائی کے دوران کم از کم 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ دہشت گرد اپنی 15 لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان اور اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں، حالانکہ زیارت میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی اور مسلمان تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں پولیس کے 18 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، جبکہ گزشتہ تینوں واقعات میں وطن کے دفاع کے دوران مجموعی طور پر 42 اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آج کیے گئے دو آپریشنز میں مزید 14 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔