Gas Leakage Web ad 1

رپورٹر کا روایتی کردار بمقابلہ مستقبل کا کردار ۔۔۔۔ اے آئی جرنلزم سیریز

مصطفےٰ صفدر بیگ

0

قسط 02
رپورٹر کا روایتی کردار بمقابلہ مستقبل کا کردار ۔۔۔۔ اے آئی جرنلزم سیریز

Gas Leakage Web ad 2

چلیں ۔۔۔۔۔ ایک پرانی تصویر ذہن میں لائیں۔
ایک رپورٹر ہے ۔۔۔۔۔ جس کے کندھے پر بیگ، ہاتھ میں نوٹ بک اور گلے میں پریس کارڈ ہے ۔۔۔۔۔ وہ کسی پریس کانفرنس میں بیٹھا ہے، تیزی سے نوٹس لے رہا ہے، ادھر ادھر سے تصدیق کر رہا ہے، پھر دوڑتا ہوا نیوز روم پہنچتا ہے، ٹائپ رائٹر یا کمپیوٹر پر خبر لکھتا ہے اور ایڈیٹر کی میز پر رکھ دیتا ہے۔
یہ تصویر پرانی نہیں ۔۔۔۔۔ بلکہ یہ آج کے ذہنوں میں گہری جڑی ہوئی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تصویر تیزی سے بدل رہی ہے۔ اور جو رپورٹر اس تبدیلی کو نہیں سمجھے گا، وہ پیچھے رہ جائے گا ۔۔۔۔۔ اس لیے نہیں کہ اس میں صلاحیت نہیں، بلکہ اس لیے کہ اس نے وقت کے ساتھ چلنا چھوڑ دیا۔
اس لیکچر میں ہم ایک ایک کر کے یہ دیکھیں گے کہ رپورٹر کا روایتی کردار کیا تھا، آج کیا ہے اور مستقبل میں کیا ہونا چاہیے؟
روایتی رپورٹر: پانچ بنیادی ستون
روایتی رپورٹر کا پورا وجود پانچ بنیادی کاموں پر کھڑا تھا:
پہلا ستون "خبر ڈھونڈنا” تھا ۔۔۔۔۔ رپورٹر کا سب سے اہم کام یہ تھا کہ وہ خبر "ڈھونڈے”۔ ذرائع بنانا، فون کال کرنا، کسی واقعے کی بھنک پانا اور پھر اس کی چھان بین کرنا ۔۔۔۔۔ یہ صحافت کی جان تھی۔
دوسرا ستون "میدان میں جانا” یعنی "لیگ ورک کرنا” تھا ۔۔۔۔۔ خبر صرف دفتر میں بیٹھ کر حاصل نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔۔ رپورٹر کو موقع واردات، جائے وقوعہ یا تقریبات میں جانا پڑتا تھا۔ سیلاب ہو، زلزلہ ہو، سیاسی ریلی ہو یا عدالتی کارروائی ہو ۔۔۔۔۔ رپورٹر وہاں موجود ہوتا تھا۔
تیسرا ستون "لوگوں سے بات کرنا” تھا ۔۔۔۔۔ انٹرویو لینا، بیانات اکٹھے کرنا، گواہوں اور عینی شاہدین سے معلومات حاصل کرنا ۔۔۔۔۔ یہ روایتی رپورٹر کی سب سے اہم مہارت تھی جو کتابوں میں نہیں سکھائی جا سکتی تھی بلکہ تجربے سے آتی تھی۔
چوتھا ستون "خبر لکھنا” تھا ۔۔۔۔۔ جمع کی گئی معلومات کو ایک واضح، مختصر اور سمجھ میں آنے والی تحریر (خبر) کی شکل دینا ۔۔۔۔۔ یہ ایک ایسا فن تھا جو برسوں کی مشق سے نکھرتا تھا۔
پانچواں ستون "ڈیڈ لائن پر پورا اترنا” تھا ۔۔۔۔۔ خبر کتنی بھی پیچیدہ ہو، کتنے بھی مسائل ہوں ۔۔۔۔۔ مقررہ وقت پر کام مکمل کرنا رپورٹر کی پہچان تھی۔
یاد رکھیں ۔۔۔۔۔ یہ پانچوں ستون آج بھی ضروری ہیں۔ لیکن صرف ان پر ٹکے رہنا اب ناکافی ہے۔
تو اب کیا بدل گیا ۔۔۔۔۔؟ وقت کی رفتار نے سب کچھ ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کبھی روایتی صحافت کی دنیا میں وقت "کافی” تھا۔ صبح کی خبر شام کے اخبار میں چھپتی تھی۔ شام کی خبر رات کی نشریات میں آتی تھی ۔۔۔۔۔ اور رپورٹر کو سوچنے، تصدیق کرنے اور لکھنے کا وقت ملتا تھا۔
پھر ٹیلی ویژن آیا اور رفتار بڑھ گئی ۔۔۔۔۔ پھر انٹرنیٹ آیا اور سب کچھ فوری ہوگیا ۔۔۔۔۔ پھر سوشل میڈیا آیا اور خبر سیکنڈوں کا معاملہ بن گئی ۔۔۔۔۔ اور اب اے آئی نے رفتار کی ایک ایسی دوڑ لگا دی ہے جہاں انسانی دماغ تنہا ٹھہر نہیں سکتا۔
آج صورتحال یہ ہے:
• ایک واقعہ ہوتا ہے اور ایک منٹ کے اندر ٹوئٹر پر ہوتا ہے
• پانچ منٹ میں یوٹیوب لائیو شروع ہو جاتی ہے
• دس منٹ میں فیس بک پر وائرل ہو جاتا ہے
• اور روایتی رپورٹر ابھی نوٹ بک نکال رہا ہوتا ہے
اس رفتار میں پرانا طریقہ کام نہیں کرتا۔ لیکن نئے طریقے میں بھی وہی پرانی اقدار کار آتی ہیں ۔۔۔۔۔ بس اوزار (ٹولز) بدل گئے ہیں۔
آج کا رپورٹر: آدھا پرانا، آدھا نیا
آج کا رپورٹر دراصل دو دنیاؤں کے درمیان کھڑا ہے ۔۔۔۔۔ ایک طرف پرانا نظام ہے جو ابھی مکمل ختم نہیں ہوا ۔۔۔۔۔ دوسری طرف نئی دنیا ہے جو پوری طرح حاوی نہیں ہوئی۔
آج کے نیوز روم میں آپ دیکھیں گے:
• رپورٹر خبر لکھتے ہوئے WhatsApp پر بھی نظر رکھتا ہے
• وہ ٹویٹ بھی کرتا ہے، ویڈیو بھی بھیجتا ہے اور آرٹیکل بھی لکھتا ہے
• کبھی کبھی وہ خود اپنا کیمرا مین بھی ہوتا ہے
• اسے SEO بھی سوچنا ہے کہ خبر گوگل پر نظر آئے
• اسے سوشل میڈیا کے لیے "ہیڈ لائن” الگ لکھنی ہے
• اسے ویب سائٹ کے لیے الگ اور یوٹیوب کے لیے الگ ورژن بنانا ہے
یہ ایک شخص بہت سارے کام کر رہا ہے ۔۔۔۔۔ اور اکثر یہ بوجھ ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے ۔۔۔۔۔ جہاں اے آئی مددگار بن سکتا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن یہ بھی ایک نئی مہارت ہے جو سیکھنی پڑتی ہے۔
مستقبل کا رپورٹر: تین بڑی تبدیلیاں
پہلی تبدیلی ۔۔۔۔۔ "سب کچھ جاننے والے” سے "ماہر” کی طرف سفر
روایتی رپورٹر "جنرلسٹ” ہوتا تھا ۔۔۔۔۔ یعنی ہر چیز کی خبر کرتا تھا۔ آج کے انتہائی مسابقتی ماحول میں جنرلسٹ رپورٹر کی جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ (کبھی اخبارات میں "جنرل رپورٹر” کی کریڈٹ لائن عام ہوا کرتی تھی)۔
لیکن مستقبل کا رپورٹر "اسپیشلسٹ” ہوگا ۔۔۔۔۔ یعنی کسی ایک شعبے کا ماہر۔ صحت، ماحولیات، معیشت، ٹیکنالوجی، سیاست، قانون ۔۔۔۔۔ ان میں سے کسی ایک میں گہری مہارت رکھنے والا رپورٹر آج بھی قیمتی ہے اور مستقبل میں اور زیادہ اہم اور قیمتی ہوگا۔
کیوں ۔۔۔۔۔؟ کیونکہ اے آئی عمومی معلومات تو دے سکتا ہے، لیکن کسی شعبے میں برسوں کا انسانی تجربہ اور اس سے پیدا ہونے والی بصیرت ابھی اس کے بس کی بات نہیں۔
اگر آپ ایک رپورٹر ہیں اور آپ نے صحت کی رپورٹنگ کو دس سال دیے ہیں ۔۔۔۔۔ تو اے آئی آپ کا متبادل نہیں، آپ کا معاون ہے۔
دوسری تبدیلی ۔۔۔۔۔ "خبر لکھنے والے” سے "کہانی سنانے والے” کی طرف سفر
روایتی صحافت میں خبر کا ایک مخصوص ڈھانچہ تھا۔ اسے "الٹا اہرام” (Inverted Pyramid) کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ سب سے اہم بات پہلے، پھر تفصیل ۔۔۔۔۔ پھر پس منظر۔
یہ ڈھانچہ آج بھی کارآمد تو ہے لیکن اب یہ کافی نہیں ۔۔۔۔۔ آج کے قاری کو خبر کے ساتھ ساتھ "کہانی” چاہیے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ اس واقعے نے کسی انسان کی زندگی پر کیا اثر ڈالا، کیوں یہ اس کی اپنی زندگی سے متعلق ہے اور آگے کیا ہوگا؟
اے آئی معیاری خبریں لکھ سکتا ہے۔ لیکن ایک دل کو چھو جانے والی انسانی کہانی ۔۔۔۔۔ جس میں درد ہو، امید ہو، جدوجہد ہو ۔۔۔۔۔ وہ اب بھی انسانی ذہن اور قلم کا کام ہے۔
تیسری تبدیلی ۔۔۔۔۔ "ادارے کے ملازم” سے "آزاد میڈیا پرسنالٹی” کی طرف سفر
یہ شاید سب سے بڑی تبدیلی ہے۔
روایتی رپورٹر ادارے کا ملازم تھا ۔۔۔۔۔ اس کی پہچان اخبار یا چینل سے تھی۔ "ڈان کے رپورٹر” یا "جیو کے رپورٹر” ۔۔۔۔۔ یہی اس کا تعارف تھا۔
مستقبل میں رپورٹر کی پہچان اس کا اپنا نام ہوگا ۔۔۔۔۔ نہ کہ وہ ادارہ جہاں وہ کام کرتا ہے۔
آج آپ دیکھیں ۔۔۔۔۔ دنیا میں کچھ صحافی ایسے ہیں جن کے انفرادی سوشل میڈیا فالوورز ان کے اداروں سے بھی زیادہ ہیں۔ Glenn Greenwald، Matt Taibbi جیسے صحافیوں نے بڑے اداروں سے الگ ہو کر اپنے آزاد پلیٹ فارم بنائے اور لاکھوں قارئین کو اپنے ساتھ لے گئے۔
پاکستان میں بھی ایسے صحافی ہیں جن کے انفرادی یوٹیوب چینل پر لاکھوں (ملینز) سبسکرائبرز ہیں ۔۔۔۔۔ کچھ تو اب کسی ادارے سے منسلک بھی نہیں۔
روایتی بمقابلہ مستقبل: ایک موازنہ
آئیے ایک جدول کی صورت میں دیکھتے ہیں کہ کیا بدلا ہے اور کیا نہیں بدلا؟
جو بدل گیا:
روایتی رپورٹر ۔۔۔۔۔ مستقبل کا رپورٹر
صرف لکھتا تھا ۔۔۔۔۔ لکھتا، بولتا اور دکھاتا ہے
ایک پلیٹ فارم کے لیے تھا ۔۔۔۔۔ کئی پلیٹ فارمز کے لیے ہوگا
ادارے کی پہچان کا محتاج تھا ۔۔۔۔۔ اپنی ذاتی پہچان ہے
ڈیڈ لائن گھنٹوں میں ۔۔۔۔۔ ڈیڈ لائن منٹوں میں
ریسرچ دنوں میں ۔۔۔۔۔ ریسرچ گھنٹوں میں
جنرلسٹ تھا ۔۔۔۔۔ اسپیشلسٹ ہوگا
خبر لکھنا پڑتی تھی ۔۔۔۔۔ کہانی سنانا ہوگی
اور جو نہیں بدلا:
• سچ بولنا
• تصدیق کرنا
• انسانی رابطہ اور ذرائع
• اخلاقی ذمہ داری
• جرأت اور آزادانہ سوچ
• قاری کے ساتھ ایمانداری
یہ وہ چیزیں ہیں جو اے آئی بھی نہیں چھین سکتا ۔۔۔۔۔ بشرطیکہ آپ انہیں مضبوطی سے تھامے رہیں۔
نوجوان (نو آموز) رپورٹر کیا کرے؟
اگر آپ ابھی ابھی صحافت میں آئے ہیں یا آنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔ تو آپ کے لیے خوش خبری یہ ہے کہ آپ کو پرانی عادتیں چھوڑنی نہیں پڑتیں ۔۔۔۔۔ آپ کو بس نئی عادتیں ساتھ جوڑنی ہیں۔
سب سے پہلے اپنی ایک "بیٹ” یعنی مخصوص شعبہ طے کریں۔ کیا آپ کو سیاست دلچسپ لگتی ہے؟ معیشت؟ ماحولیات؟ ٹیکنالوجی؟ صحت؟ جس شعبے میں آپ کی دلچسپی ہو ۔۔۔۔۔ اس میں گہرائی حاصل کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ اے آئی ٹولز سے دوستی شروع کریں۔ ChatGPT کو ریسرچ معاون کے طور پر استعمال کریں۔ Otter.ai سے انٹرویو ٹرانسکرائب کریں۔ Canva اور مختلف ویڈیو ٹولز سے سادہ گرافکس اور شارٹ ویڈیوز بنانا سیکھیں۔
اور سب سے اہم ۔۔۔۔۔ سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی آج سے شروع کریں۔ اپنا کام شیئر کریں، لوگوں سے بات کریں ۔۔۔۔۔ اور اپنی "آواز” سنانا شروع کریں۔
تجربہ کار رپورٹر کیا کرے؟
اگر آپ دس پندرہ سال سے صحافت میں ہیں اور یہ سب تبدیلیاں دیکھ کر اندر سے گھبراہٹ محسوس کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔ تو یہ بالکل فطری ہے۔ لیکن یہ گھبراہٹ نہیں ۔۔۔۔۔ یہ موقع ہے۔
آپ کے پاس کچھ ایسا ہے جو کوئی نیا نہیں خرید سکتا ۔۔۔۔۔ وہ ہے تجربہ، ذرائع، ساکھ اور گہری سمجھ ۔۔۔۔۔ یہ سب آپ کا اثاثہ ہے۔
آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ اس اثاثے کو نئے ٹولز کے ساتھ جوڑیں۔ آہستہ آہستہ ایک ایک اے آئی ٹول سیکھیں۔ کوئی یوٹیوب ٹیوٹوریل دیکھیں، کوئی ورک شاپ اٹینڈ کریں۔ یاد رکھیں ۔۔۔۔۔ آپ کو ہر چیز کا ماہر نہیں بننا ۔۔۔۔۔ بس اتنا سیکھنا ہے کہ یہ آپ کا وقت اور محنت بچائے۔
اور اپنا ذاتی برانڈ بنانا شروع کریں۔ آپ کے پاس برسوں کا علم اور تجربہ ہے ۔۔۔۔۔ اسے ایک نیوز لیٹر، ایک یوٹیوب چینل، یا ایک پوڈکاسٹ کی شکل دیں۔ لوگ آپ کی بات سننا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔ بس آپ کو انہیں سننے کا موقع دینا ہے۔
ایک خیال جو یاد رکھنے کے قابل ہے
صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ سے دو طرح کے لوگ رہے ہیں۔
ایک وہ جو کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ "پہلے ایسا نہیں تھا، اچھا تھا۔” دوسرے وہ جو کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ "اب ایسا ہے، تو اب کیا کریں؟”
پہلے والے آہستہ آہستہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ دوسرے والے راستہ بناتے ہیں۔
اے آئی نے صحافت کا کردار نہیں چھینا ۔۔۔۔۔ اس نے صحافت کی ذمہ داری بڑھا دی ہے۔ جب غلط معلومات اتنی آسانی سے پھیل سکتی ہو، جب فیک تصاویر اتنی قابل اعتبار لگ سکتی ہوں ۔۔۔۔۔ تو ایک اچھا، ذمہ دار، تصدیق کرنے والا رپورٹر پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
بس اسے اپنا کام کرنے کا طریقہ بدلنا ہے۔ مقصد وہی رہے گا ۔۔۔۔۔ یعنی پہلے خود سچ تک پہنچنا اور پھر وہ سچ لوگوں تک پہنچانا۔
**********************************
اگلے لیکچر میں: اے آئی ٹولز سے خبر کی تلاش ۔۔۔۔۔ اور ریسرچ کیسے تیز کریں ۔۔۔۔۔ وہ عملی ٹولز جو ہر رپورٹر کو آج ہی استعمال کرنے چاہئیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.