Gas Leakage Web ad 1

اے آئی نے صحافت کو کیسے بدلا ۔۔۔۔۔ بنیادی تبدیلیوں کا جائزہ (قسط اول)

تحریر: مصطفےٰ صفدر بیگ

0

*اے آئی نے صحافت کو کیسے بدلا ۔۔۔۔۔ بنیادی تبدیلیوں کا جائزہ (قسط اول)*

Gas Leakage Web ad 2

*رپورٹر اور اے آئی (مصنوعی ذہانت کا) دور*

کچھ سال پہلے تک صحافت کی دنیا میں ایک بات بالکل طے تھی کہ خبر صرف انسان ڈھونڈتا ہے، لکھتا ہے اور قارئین تک پہنچاتا ہے۔ اخبار کا دفتر ہو، ٹی وی چینل کا نیوز روم ہو، یا آن لائن نیوز پورٹل ہو، ہر جگہ انسانی دماغ، انسانی قلم اور انسانی آنکھ کا راج تھا۔ لیکن پھر کچھ ایسا ہوا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
اے آئی آیا ۔۔۔۔۔ چپکے سے، بغیر اعلان کے اور دیکھتے ہی دیکھتے صحافت کے در و دیوار بدلنے لگے۔
آج یہ سوال صرف فکری نہیں، عملی بھی ہے ۔۔۔۔۔ کیا اے آئی صحافت کا مستقبل چھین لے گا؟ یا یہ صحافیوں کا سب سے طاقتور ہتھیار ثابت ہوگا؟ اس قسط میں ہم اسی سوال کے جواب کی طرف بڑھیں گے لیکن پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اے آئی نے صحافت میں کن بنیادی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے۔

وہ دور جب خبر لکھنا "وقت مانگتا تھا”
ذرا پیچھے چلتے ہیں۔ روایتی صحافت میں ایک رپورٹر کو ایک خبر مکمل کرنے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا تھا ۔۔۔۔۔ پہلے معلومات جمع کرو، ذرائع سے بات کرو، نوٹس لو، پھر ٹرانسکرپٹ بناؤ، تحقیق کرو، لکھو، ایڈیٹر کو بھیجو، ترمیم قبول کرو ۔۔۔۔۔ اور پھر شائع ہو۔ اس پورے عمل میں گھنٹوں لگ جاتے تھے ۔۔۔۔۔ کبھی کبھی تو پورا دن بھی گزر جاتا تھا۔
لیکن آج کی دنیا میں خبر "پرانی” ہونے میں صرف چند منٹ لگتے ہیں۔ ٹوئٹر (اب ایکس) پر کچھ سیکنڈ میں خبر پھیل جاتی ہے۔ یوٹیوب لائیو پر واقعہ ہوتے ہی نشر ہو جاتا ہے۔ اس تیز رفتار دنیا میں پرانا طریقہ کام نہیں آتا تھا ۔۔۔۔۔ اور پھر اے آئی نے یہ مسئلہ حل کرنے کی ٹھان لی۔

پہلی بنیادی تبدیلی: خبریں خود لکھنے والے روبوٹ
شاید آپ کو یقین نہ آئے، لیکن یہ حقیقت ہے ۔۔۔۔۔ آج دنیا کے بڑے میڈیا ادارے اے آئی سے خبریں لکھوا رہے ہیں۔
اے پی (Associated Press)، فوربز اور بلوم برگ جیسے اداروں نے برسوں پہلے یہ تجربہ شروع کردیا تھا۔ کھیل کے نتائج، اسٹاک مارکیٹ کی رپورٹیں، موسم کی پیشگوئیاں، کمپنیوں کی مالی رپورٹیں ۔۔۔۔۔ یہ سب خبریں آج بڑی حد تک اے آئی لکھ رہا ہے اور وہ بھی چند سیکنڈ میں۔
"Automated Insights” اور "Narrative Science” جیسی کمپنیاں ایسے نظام تیار کر چکی ہیں جو ڈیٹا کو دیکھ کر فوری طور پر رواں خبر لکھ سکتے ہیں۔ اور اس خبر کو پڑھ کر عام قاری کو یہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ یہ کسی انسان نے نہیں بلکہ مشین نے لکھی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ خبریں جو محض اعداد و شمار پر مبنی ہوتی ہیں، اب انسانی رپورٹر کی اتنی ضرورت نہیں رہی۔ یہ پہلی بڑی تبدیلی ہے جو اے آئی لائی ہے۔

دوسری بنیادی تبدیلی: معلومات کی رفتار کا انقلاب
پہلے ایک رپورٹر کو کسی واقعے کی تفصیل جمع کرنے کے لیے گھنٹوں لگتے تھے۔ ذرائع تک پہنچو، فون کرو، انٹرویو لو، تصدیق کرو ۔۔۔۔۔ یہ سب وقت طلب تھا۔
اب اے آئی ٹولز جیسے ChatGPT، Perplexity AI، اور Google Gemini ایک لمحے میں دنیا بھر کی معلومات آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ ریسرچ جو پہلے ایک دن لیتی تھی، اب ایک گھنٹے میں مکمل ہو سکتی ہے۔
اس سے صحافت کی رفتار بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ Breaking News کا وقت سیکنڈوں میں سمٹ آیا ہے۔ ایک رپورٹر جو پہلے دن میں ایک یا دو خبریں کر سکتا تھا، وہ اب اے آئی کی مدد سے اسی وقت میں پانچ سے سات خبریں تیار کر سکتا ہے۔
لیکن اس رفتار کے ساتھ ایک بڑا خطرہ بھی آیا ۔۔۔۔۔ غلط معلومات کا پھیلاؤ۔ جب سب کچھ تیز ہو تو تصدیق (Verification) کہاں جاتی ہے؟ یعنی صحافت کا سب سے بڑا بحران بھی اے آئی ہی نے پیدا کیا ہے، جس کا ذکر آگے آئے گا۔

تیسری بنیادی تبدیلی: ڈیٹا جرنلزم کا نیا دور
ایک زمانے میں ڈیٹا جرنلزم (Data Journalism) صرف بڑے اداروں کا کام تھا، جن کے پاس ڈیٹا ماہرین کی ٹیمیں ہوتی تھیں۔ ایک عام رپورٹر کا کام فیلڈ رپورٹنگ تھا ۔۔۔۔۔ وہ اعداد و شمار سے دور رہتا تھا۔
اے آئی نے یہ دیوار گرا دی ہے۔
آج ایک رپورٹر جو ڈیٹا سائنس نہیں جانتا، وہ بھی اے آئی ٹولز کی مدد سے ہزاروں صفحات کے سرکاری ریکارڈز، الیکشن ڈیٹا، جرائم کی شرح، یا مالیاتی رپورٹیں چند منٹ میں چھان سکتا ہے اور اس میں سے ایک اہم کہانی نکال سکتا ہے۔
پاکستان میں بھی آہستہ آہستہ یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔ کچھ صحافی اور ادارے آن لائن ڈیٹا بیسز اور سرکاری اعداد و شمار کو استعمال کرکے انویسٹی گیٹو رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ اے آئی نے اس کام کو عام آدمی تک پہنچا دیا ہے۔

چوتھی بنیادی تبدیلی: نیوز روم کی ساخت بدل رہی ہے
روایتی نیوز روم میں کئی درجے ہوتے تھے ۔۔۔۔۔ رپورٹر، سب ایڈیٹر، ایڈیٹر، ڈیسک انچارج، چیف ایڈیٹر۔ ہر خبر ان تمام مراحل سے گزرتی تھی۔ اس نظام میں بہت سے لوگوں کی ضرورت تھی اور بہت سا وقت بھی لگتا تھا۔
اے آئی کی آمد کے بعد اس ڈھانچے میں تبدیلی آ رہی ہے۔ دنیا بھر میں نیوز روم چھوٹے ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن ان کی پیداوار (Output) کم نہیں ہو رہی، بلکہ بڑھ رہی ہے۔ کیونکہ اے آئی نے کئی درمیانی مراحل کو خودکار (Automate) کر دیا ہے۔
امریکہ اور یورپ کے کئی بڑے اخباروں نے حالیہ برسوں میں اپنی ٹیمیں چھوٹی کی ہیں اور اے آئی ٹولز پر انحصار بڑھایا ہے۔ یہ صحافیوں کے لیے تشویشناک خبر ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جن صحافیوں نے خود کو نئی مہارتوں سے بروقت لیس کرلیا، وہ اس تبدیلی میں نہ صرف بچ گئے بلکہ آگے بھی نکل گئے۔

پانچویں بنیادی تبدیلی: ملٹی میڈیا کا لازمی ہونا
پہلے رپورٹر صرف لکھتا تھا، فوٹوگرافر صرف تصویر لیتا تھا اور کیمرا مین صرف ویڈیو بناتا تھا۔ یعنی ہر کام الگ الگ لوگوں کا تھا۔
لیکن اے آئی نے ان تمام کاموں کو ایک جگہ سمیٹنا شروع کر دیا ہے۔ آج ایک اچھا رپورٹر وہ ہے جو لکھ بھی سکے، بول بھی سکے، سادہ ویڈیو بھی بنا سکے ۔۔۔۔۔ اور سوشل میڈیا پر خود کو پیش بھی کر سکے۔ اے آئی نے ویڈیو ایڈیٹنگ، تصویروں کی ترمیم اور آواز کی صفائی ۔۔۔۔۔ یہ سب کام اتنے آسان کر دیے ہیں کہ اب کوئی بھی یہ مہارتیں جلدی سیکھ سکتا ہے۔
"ون مین بینڈ” جرنلسٹ ۔۔۔۔۔ یعنی ایک ہی شخص جو رپورٹ کرے، ویڈیو بنائے، ایڈٹ کرے اور شائع کرے ۔۔۔۔۔ اب نہ صرف ممکن ہے بلکہ کئی بڑے اداروں کا مطالبہ بھی بن گیا ہے۔

چھٹی بنیادی تبدیلی: غلط معلومات اور ڈیپ فیک کا بحران
یہ وہ تبدیلی ہے جو سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔
اے آئی نے نہ صرف اچھا کانٹنٹ بنانے کو آسان کیا ۔۔۔۔۔ بلکہ جھوٹ اور غلط معلومات بنانا بھی آسان کر دیا۔ ڈیپ فیک ویڈیوز، AI سے تیار کردہ جھوٹی تصاویر اور خودکار طریقے سے پھیلائی جانے والی غلط خبریں ۔۔۔۔۔ یہ سب اے آئی کی "تاریک” طاقت کا مظہر ہیں۔
آج ایک کلک پر کسی بھی سیاستدان، صحافی یا مشہور شخصیت کی جھوٹی ویڈیو بنائی جا سکتی ہے۔ ایک جھوٹی خبر اتنی قابل اعتماد دکھائی جا سکتی ہے کہ تجربہ کار صحافی بھی دھوکہ کھا جائے۔
اس چیلنج نے صحافی اور صحافت کی ذمہ داری کئی گنا بڑھا دی ہے۔ آج کا رپورٹر صرف خبر لکھنے والا نہیں ۔۔۔۔۔ وہ ایک تفتیشی افسر بھی ہے جسے ہر بات کی تصدیق کرنی ہے، ہر تصویر کی اصلیت جانچنی ہے اور ہر ویڈیو کو پرکھنا ہے۔

ساتویں بنیادی تبدیلی: سامعین اور قاری کا رویہ بدل گیا
صحافت میں تبدیلی صرف نیوز روم کے اندر نہیں آئی ۔۔۔۔۔ یہ اس طرف سے بھی آئی جہاں سے خبر جاتی ہے ۔۔۔۔۔ یعنی قاری اور ناظر۔
اے آئی الگورتھم نے لوگوں کی معلومات حاصل کرنے کی عادات بدل دی ہیں۔ لوگ اب خود اخبار نہیں خریدتے، خود چینل نہیں لگاتے ۔۔۔۔۔ فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک کا الگورتھم انہیں وہی دکھاتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسے "Echo Chamber” کہا جاتا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غیر جانبدار اور مکمل صحافت کمزور ہو رہی ہے، جبکہ جذباتی، یکطرفہ اور سنسنی خیز مواد کی مانگ بڑھ رہی ہے ۔۔۔۔۔ کیونکہ الگورتھم ایسے مواد کو زیادہ پھیلاتا ہے۔
یہ صحافیوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے ۔۔۔۔۔ کہ اصول کے ساتھ چلنا ہے یا الگورتھم کے ساتھ؟

آٹھویں بنیادی تبدیلی: اے آئی سے شخصی صحافت کا ظہور
اے آئی (مصنوعی ذہانت) ایک بالکل نئی اور حیران کن تبدیلی لائی ہے ۔۔۔۔۔ اب صرف بڑے ادارے ہی صحافت نہیں کر سکتے۔ ایک اکیلا شخص بھی (اگر ہنر مند ہو اور اے آئی ٹولز جانتا ہو تو) اپنا میڈیا ادارہ چلا سکتا ہے۔
نیوز لیٹرز (Substack)، یوٹیوب چینلز، پوڈکاسٹس اور انڈیپنڈنٹ ویب سائٹس ۔۔۔۔۔ یہ سب اب ایک فرد کے بس میں ہیں۔ اے آئی سے ریسرچ ہو، اے آئی سے پہلا مسودہ بنے، اے آئی سے گرافکس تیار ہوں ۔۔۔۔۔ اور اے آئی سے SEO کا کام ہو ۔۔۔۔۔ یعنی ایک رپورٹر اب اپنا پورا ادارہ خود چلا سکتا ہے۔
پاکستان میں بھی یہ رجحان آ رہا ہے۔ کئی نوجوان صحافی جنہیں کسی نے نوکری نہیں دی، انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل یا فیس بک پیج کے ذریعے لاکھوں لوگوں تک اپنی آواز پہنچائی۔ اے آئی نے یہ راستہ مزید کھول دیا ہے۔

تو کیا صحافی بے روزگار ہو جائیں گے؟
یہ سب پڑھ کر بہت سے ذہنوں میں ایک ہی سوال گھومتا ہے ۔۔۔۔۔ کیا اے آئی صحافیوں کی جگہ لے لے گا؟
جواب ہے: جزوی طور پر ۔۔۔۔۔ ہاں۔
جو کام محض معلومات جمع کر کے ایک معیاری فارمیٹ میں پیش کرنے کا ہے، وہ اے آئی پہلے سے کر رہا ہے اور آگے بھی کرتا رہے گا۔ اسٹاک رپورٹس، کھیلوں کے نتائج، موسم کی خبریں ۔۔۔۔۔ یہ مکمل طور پر مشین کے حوالے ہو رہی ہیں۔
لیکن وہ کام جس میں انسانی سوچ، جذبہ، اخلاقی فیصلہ، زمین پر موجودگی اور سورس کے ساتھ اعتماد کا رشتہ درکار ہو ۔۔۔۔۔ وہ ابھی اے آئی کے بس کا نہیں۔
انویسٹی گیٹو رپورٹنگ، حساس انٹرویوز، جنگ یا تباہی کی رپورٹنگ، سیاسی تجزیہ اور کمیونٹی سے جڑی صحافت ۔۔۔۔۔ یہ سب ابھی انسانی ہاتھوں کے محتاج ہیں۔
لہٰذا سوال یہ نہیں کہ اے آئی صحافیوں کو ہٹائے گی یا نہیں ۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کون سے صحافی اے آئی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور کون اسے اپنا اوزار (ٹول) بناتے ہیں۔

مستقبل کا رپورٹر کیسا ہوگا؟
آنے والے برسوں میں جو رپورٹر صرف خبر لکھنا جانتا ہو، وہ پیچھے رہ جائے گا۔ مستقبل کا رپورٹر وہ ہوگا جو:
• اے آئی ٹولز سے دوستی رکھتا ہو اور انہیں اپنے کام میں استعمال کرنا جانتا ہو
• ڈیٹا کو سمجھنے اور اس سے کہانی نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہو
• ملٹی میڈیا ہو ۔۔۔۔۔ یعنی لکھنا، بولنا اور دکھانا ۔۔۔۔۔ تینوں جانتا ہو
• تصدیق اور فیکٹ چیکنگ میں ماہر ہو کیونکہ غلط معلومات کا سیلاب بڑھتا جا رہا ہے
• اپنا ذاتی برانڈ بنانے پر توجہ دے کیونکہ قارئین اب ادارے نہیں، شخصیت پر بھروسہ کرتے ہیں
• اخلاقی پختگی رکھتا ہو کیونکہ اے آئی کے دور میں صحافتی اقدار کا دفاع پہلے سے زیادہ ضروری ہے

آخری بات: خوف سے آگے نکلیں
جب بھی کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے تو پہلا ردعمل خوف ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اور یہ فطری ہے۔ جب پرنٹنگ پریس آئی تھی تو لوگوں نے کہا تھا کہ مذہبی علماء بے کار ہو جائیں گے کیونکہ علم ہر کسی تک پہنچ جائے گا۔ جب ٹیلی ویژن آیا تو لوگوں نے کہا ریڈیو ختم ہو جائے گا۔ جب انٹرنیٹ آیا تو لوگوں نے کہا اخبار مر جائیں گے۔
کچھ نہیں مرا ۔۔۔۔۔ سب نے خود کو بدل لیا اور نئی شکل میں زندہ رہے۔
اے آئی بھی ایک ایسی ہی تبدیلی ہے ۔۔۔۔۔ بس اس بار یہ تبدیلی پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور گہری ہے۔ اس لیے جتنی جلدی ہو، اسے سمجھنا شروع کریں ۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ چلنا سیکھیں۔
میری یہ تحریریں ۔۔۔۔۔ اس سفر میں آپ کا ساتھ دینے کے لیے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.