تمام غیرقانونی افغان شہریوں کوہم اٹھاکرباہرپھینکیں گے،ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ایسے تمام افراد کو ملک سے بے دخل کیا جائے گا۔
بدھ کے روز پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث بیشتر دہشت گرد افغان شہری تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی غیر قانونی غیر ملکی شہری کو رہنے کی اجازت نہیں دے گا اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیوں کے دوران 54 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشنز بلاامتیاز جاری رہیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان وفاقی حکومت کی اس ہدایت کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت 10 جولائی 2026 سے بغیر قانونی ویزے کے پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی گرفتاری اور بے دخلی کا عمل غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے (Illegal Foreigners Repatriation Plan) کے تحت مزید تیز کیا جائے گا۔
پاکستانی حکام اس پالیسی کو قومی سلامتی سے جوڑتے ہیں، جبکہ افغان حکام اس سے قبل پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔