کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی ہڑتال کی کال عوام نے مسترد کر دی: حکومت آزاد کشمیر کا دعویٰ
ایکشن کمیٹی کے خلاف 79 مقدمات، ریاست کو 15 ارب روپے نقصان
مظفرآباد: سیکریٹری اطلاعات حکومت آزاد جموں و کشمیر اور ترجمان آزاد کشمیر پولیس نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی پر ریاست میں بدامنی، تشدد اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے الزامات عائد کیے۔
سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پرتشدد سرگرمیوں کے باعث ریاست کو تقریباً 15 ارب روپے کا معاشی نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق عوامی حقوق کی تحریک کو شرپسند اور ذیلی قوم پرست عناصر نے ہائی جیک کر لیا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے غلط معلومات اور پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت پہلے ہی عوام کو سستے آٹے اور بجلی کی مد میں سبسڈی فراہم کر رہی ہے، جبکہ کالعدم کمیٹی انتخابات میں خلل ڈالنے اور جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پریس کانفرنس میں الزام لگایا گیا کہ کمیٹی کے بعض رہنما پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہیں، سول نافرمانی پر اکساتے ہیں اور ماضی کے پرتشدد واقعات کے باعث تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا۔
حکام کے مطابق کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف 79 مقدمات درج ہیں، جبکہ مختلف احتجاجی کارروائیوں میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، پولیس اہلکاروں پر حملے کیے گئے، راستے بند کیے گئے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمان آزاد کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا کہ مختلف مقامات پر راشن سے لدے ٹرک لوٹے گئے، پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی اور متعدد سیکیورٹی اہلکار زخمی یا جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بعض واقعات سے متعلق سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے گمراہ کن مواد بھی پھیلایا گیا۔
پولیس کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران 17 افراد کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر مہلک سامان برآمد کیا گیا ہے۔ حکام نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے قانون کے سامنے سرنڈر کرنے کا مطالبہ کیا۔
نوٹ: یہ تمام الزامات حکومت آزاد کشمیر اور پولیس حکام نے پریس کانفرنس میں عائد کیے ہیں۔ اس خبر میں متعلقہ فریق کا مؤقف شامل نہیں ہو سکا۔