اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد پاکستان کی آئل انڈسٹری اور حکومت کے درمیان ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ریفائنریز نے الزام عائد کیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے عالمی پریمیم اور پلاٹس (Platts) کے اوسط نرخوں کا درست حساب نہیں لگایا، جس کے باعث پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ضرورت سے زیادہ کمی کی گئی۔
وینزویلا میں زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری، ہلاکتیں 235 تک پہنچ گئیں
آئل انڈسٹری کے مطابق اوگرا کی قیمتوں کے تعین میں مبینہ غلطیوں کے نتیجے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 45 روپے فی لیٹر جبکہ موٹر سپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں تقریباً 11 روپے فی لیٹر اضافی کمی کی گئی۔
صنعتی ذرائع کی جانب سے شیئر کیے گئے حساب کتاب کے مطابق حالیہ پندرہ روزہ قیمتوں کے جائزے کے دوران پریمیم کے اصل اخراجات اور قابل اطلاق پلاٹس اوسط نرخوں کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا، جس سے قیمتوں کے تعین میں فرق پیدا ہوا۔
آئل انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ اگر عالمی نرخوں اور پریمیم کے حقیقی اخراجات کو درست انداز میں شامل کیا جاتا تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنی بڑی کمی نہ ہوتی۔
اس معاملے پر آئل انڈسٹری اور متعلقہ حکام کے درمیان مشاورت اور وضاحت کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اوگرا کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔