اسلام آباد: 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے ایف بی آر نے مصنوعی ذہانت پر مبنی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کا کہنا ہے کہ معیشت کے مختلف شعبوں، بشمول تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس ریلیف دینے، سپر ٹیکس میں معقولیت لانے یا اسے ختم کرنے، اور ریٹیلرز کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کے باوجود ایف بی آر ٹیکس معاملات کے تصفیے کے لیے ڈیجیٹل الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم نافذ کرے گا۔
کراچی جیسے بلدیاتی الیکشن کروانے سے انتخابات نہ کروانا بہتر ہوگا، سعد رفیق کا بلاول کے بیان پر ردعمل
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ہر ماہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی جانچ پڑتال کرے گا، جس کے نتیجے میں آئندہ مالی سال کے دوران مجموعی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ متوقع ہے۔
چیئرمین ایف بی آر کے مطابق معاشی اشاریے، جن میں جی ڈی پی کی شرح نمو، بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کی کارکردگی اور صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی شامل ہیں، آئندہ مالی سال میں مقررہ ٹیکس ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف اور پارلیمنٹ کو آگاہ کیا تھا کہ نفاذ، تعمیل، پالیسی اقدامات اور ٹیکس شرح میں اضافے سمیت مجموعی طور پر 26 محصولات بڑھانے والے اقدامات سے مالی سال 2026-27 میں اضافی ایک ہزار 20 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔
راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر نے جاری مالی سال کے اختتام جون 2026 تک اپنے ٹیکس وصولی کے ہدف کو کم کرتے ہوئے 12 ہزار 983 ارب روپے مقرر کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدا میں حکومت نے پارلیمنٹ کی منظوری سے ایف بی آر کا سالانہ ہدف 14 ہزار 130 ارب روپے مقرر کیا تھا، جسے بعد میں کم کر کے 13 ہزار 979 ارب روپے کیا گیا، جبکہ بعد ازاں اسے مزید کم کر کے 12 ہزار 983 ارب روپے کر دیا گیا۔ حکومت نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ 12 ہزار 961 ارب روپے کا ہدف طے کر رکھا تھا۔
جاری مالی سال میں ہدف میں کمی کے باوجود آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کے ہدف سے متعلق سوال پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بعض شعبوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور ایف بی آر مؤثر نفاذ اور بہتر تعمیل کے ذریعے مقررہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔