Gas Leakage Web ad 1

صدر ٹرمپ نے ڈیل میں تاخیر پر مایوس ہوکر ایران پر دوبارہ حملے کا حکم دیا: امریکی ویب سائٹ

0

امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر شدید برہم ہو گئے تھے کہ ایران امریکی تجاویز کا جواب نہیں دے رہا تھا، اور بڑھتی ہوئی مایوسی کے بعد انہوں نے ایران پر نئے حملے کا حکم دے دیا۔

Gas Leakage Web ad 2

امریکی نیوز ویب سائٹ نے دو سینئر امریکی اہلکاروں سے گفتگو کی بنیاد پر ایران کے خلاف نئی کارروائی کا پس منظر بیان کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے کا فوری محرک ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا جانا تھا، تاہم پس منظر میں صدر ٹرمپ کی مایوسی مسلسل بڑھ رہی تھی کیونکہ ایران نے دو ہفتے گزرنے کے باوجود امریکی تجاویز پر کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

ہڑتال اور مس کنڈکٹ، محکمہ صحت بلوچستان نے 23 ڈاکٹروں کو معطل کردیا

امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق حملے امریکا کا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کیے گئے، تاہم اس بات کا خیال رکھا گیا کہ جانی نقصان نہ ہو تاکہ ممکنہ معاہدے کے دروازے مکمل طور پر بند نہ ہوں۔

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ جب فائٹر جیٹ اپنے اہداف کی جانب روانہ ہوئے تو ایران کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ اگر اپاچی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ ہلاک ہو جاتے تو آج صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔

امریکی اہلکار کے مطابق اسی دوران قطری ثالث بھی تہران سے رابطے میں تھے تاکہ مذاکراتی عمل بحال کیا جا سکے اور فریقین کے درمیان موجود خلا کو پُر کیا جا سکے۔ حملے سے کئی گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس نے ایک اور کوشش کرتے ہوئے ایران سے ٹرمپ کی تجاویز پر جواب طلب کیا اور خبردار کیا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ جس پر ایران نے جواب دیا کہ اس کا ردعمل ابھی تیار نہیں، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ اگر حملہ کیا گیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز بھی جب قطری اور ایرانی حکام کے درمیان ملاقات ہوئی تو اسی دوران صدر ٹرمپ نے نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ دیکھا جائے گا کہ معاہدے کا کیا بنتا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ گزشتہ ماہ ہی طے پا سکتا تھا، کیونکہ ایرانی مندوبین کی جانب سے شرائط منظور کیے جانے کے باوجود 29 مئی کو سیچوئشن روم اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران سے درخواست کی کہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے مسودے میں دو ترامیم کی جائیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک شرط یورینیم افزودگی میں کمی جبکہ دوسری آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس نہ لینے سے متعلق تھی۔ اس کے بدلے صدر ٹرمپ اس بات پر آمادہ تھے کہ یورینیم کی ڈاؤن بلینڈنگ ایرانی سرزمین پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں کی جائے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس پر ردعمل کے لیے چار سے پانچ دن کا وقت مانگا تھا، تاہم دو ہفتے گزر جانے کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق معاہدے سے متعلق اپنے وعدے پورے نہ ہونے کی منفی میڈیا کوریج نے بھی صدر ٹرمپ کی مایوسی میں اضافہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی دائیں بازو کے قدامت پسند حلقوں نے بھی تنقید شروع کر دی کہ صدر ٹرمپ ایران کے معاملے میں بہت نرم رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب ایرانی حکام نے عوامی سطح پر یہ کہنا شروع کر دیا کہ بعض منجمد ایرانی اثاثے معاہدے سے قبل ہی بحال کیے جائیں گے، جبکہ صدر ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ اثاثے اسی وقت بحال ہوں گے جب ایران اپنے بعض وعدوں پر عمل درآمد شروع کرے گا۔

امریکی اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ ان بیانات سے مایوس ہو گئے تھے، تاہم وہ اپنے مؤقف پر قائم رہے اور انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران جوہری مطالبات تسلیم کرنا شروع کر دے تو اسے منجمد اثاثوں میں سے اربوں ڈالر تک رسائی مل سکتی ہے۔

گزشتہ بارہ روز کے دوران امریکی مذاکرات کار اور علاقائی ثالث ایران کو یہ باور کراتے رہے کہ معاملات بگاڑنے والے عناصر یا کسی ٹیکٹیکل واقعے سے پہلے امریکی تجاویز کا جواب دے دیا جائے۔ گزشتہ ہفتے عباس عراقچی نے علاقائی ثالثوں کو آگاہ کیا تھا کہ ایران کا ردعمل سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور اتوار تک وائٹ ہاؤس کو جواب موصول ہو جائے گا۔

امریکی اہلکار کے مطابق اس کے اگلے ہی روز اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کی، اور پھر اسرائیل نے تہران کو نشانہ بنایا۔ اس صورتحال میں علاقائی ثالثوں نے ایران کو بتایا کہ اسرائیل پر حملہ کر کے اس نے بڑی غلطی کی ہے کیونکہ اس سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو مذاکرات سبوتاژ کرنے کا سنہری موقع مل گیا۔ اس کے بعد اپاچی ہیلی کاپٹر کا واقعہ پیش آ گیا۔

نیوز ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران دوحہ میں قطری ثالثوں کی موجودگی میں ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان متوازی بات چیت بھی جاری رہی۔ قطر نے معاملات طے کرانے کے لیے سہ فریقی ملاقات کی کوشش بھی کی، تاہم ایران نے اس سے انکار کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے حملے کا حکم دیے جانے تک امریکی انتظامیہ اس بات کا تعین نہیں کر سکی تھی کہ آیا ایران نے اپاچی ہیلی کاپٹر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا تھا یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس کے دو اہلکاروں نے کہا کہ اگر یہ ایک حادثہ بھی تھا تب بھی امریکا کے لیے ردعمل دینا ضروری تھا تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات کو قبول نہیں کرتا۔ ان کے مطابق اگر حملہ نہ کیا جاتا تو امریکا کی پوزیشن کمزور دکھائی دیتی اور مذاکراتی عمل میں اس کا مؤقف متاثر ہوتا۔

امریکی اہلکار کے مطابق معاہدہ اب بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہے، تاہم اگر ایران تاخیر کی پالیسی جاری رکھتا ہے تو صدر ٹرمپ کے نزدیک اسے اس کی قیمت چکانا ہوگی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.