جسٹس طارق محمود باجوہ نے محمد عمیر ریاض کی عبوری درخواست ضمانت منظور کرنے کے حوالے سے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بیوی نے شوہر کے پاس بطور امانت رکھی گئی گاڑی فروخت کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرایا تھا، جبکہ گاڑی بیوی کے نام پر رجسٹرڈ تھی اور شوہر صرف اسے استعمال کر رہا تھا۔
ثاقب چدھڑ پر مومنہ کو ہراساں کرنے کا مقدمہ درج، عبوری ضمانت منظور
درخواست گزار کے مطابق بیوی نے خاندانی تنازع اور ازدواجی اختلافات کے باعث مقدمہ درج کرایا۔ بیوی اس سے قبل سامان جہیز کی واپسی کا دعویٰ بھی فیملی کورٹ میں دائر کر چکی ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ متنازع گاڑی پہلے ہی فیملی کورٹ میں زیر سماعت جہیز کے دعوے کا حصہ بن چکی ہے، اور شکایت کنندہ نے خود فیملی کورٹ میں اس گاڑی کو جہیز کا سامان قرار دیا تھا، تاہم ایف آئی آر میں زیر التوا فیملی مقدمے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ریکارڈ کے مطابق گاڑی اب بھی بیوی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ مقدمہ بظاہر میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات میں خرابی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملزم تفتیش میں شامل ہو چکا ہے اور ریکارڈ پر کسی بد نیتی یا بدنوانی کا ثبوت موجود نہیں۔ عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض محمد عمیر ریاض کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔