Gas Leakage Web ad 1

10 ماہ میں 700 ارب کا ٹیکس شارٹ فال، اپریل میں بھی ہدف سے کم وصولی

0

باوثوق ذرائع کے مطابق اپریل کے دوران 1029 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے مقابلے میں گزشتہ روز تک 810 ارب روپے جمع کیے گئے تھے، جبکہ آج کی وصولیوں کو شامل کرنے کے بعد ٹیکس کلیکشن 900 ارب روپے سے تجاوز کر جانے کا امکان ہے۔ جولائی سے اپریل تک مجموعی طور پر 10910 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا تھا، جس کے مقابلے میں گزشتہ روز تک 10100 ارب روپے وصول ہو چکے تھے، جبکہ آج کی کلیکشن کے بعد ایف بی آر کی مجموعی آمدن تقریباً 10200 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

خیبرپختونخوا: سینیٹ ضمنی انتخاب کا التوا، الیکشن کمیشن کیخلاف درخواست دائر

اس مدت کے دوران 500 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے گئے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 440 ارب روپے کے ریفنڈز دیے گئے تھے، اس طرح رواں سال 60 ارب روپے زائد ادائیگیاں کی گئیں۔

وفاقی شرعی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت عائد سپر ٹیکس (سیکشن 4B اور 4C) کو آئینی قرار دیتے ہوئے ایف بی آر کے مؤقف کو درست تسلیم کیا ہے، تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ آمدن جو پہلے ہی قانون کے تحت ٹیکس سے مستثنیٰ ہے اس پر سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سپر ٹیکس دراصل ایک اضافی انکم ٹیکس ہے جسے آئین کے تحت قانونی حیثیت حاصل ہے، اور پارلیمنٹ کو ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

ایف بی آر کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران اس مد میں 290 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں، جو جون 2026 تک بڑھ کر 315 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل 9 ماہ سے ریونیو شارٹ فال برقرار ہے اور ہدف پورا کرنے کے لیے سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس پر انحصار کیا جا رہا ہے، تاہم اس کے باوجود ٹیکس ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ رواں مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ہدف 14131 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا جسے بعد ازاں نظرثانی کر کے 13979 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.