وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے سماء نیوز کے پروگرام "ندیم ملک لائیو” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی، امن کے قیام پر زور دیا اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر بھی زور دیا، جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عطاء تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم نے چند دن قبل چین کے سفیر سے ملاقات کی تھی، اور اسحاق ڈار کا دورہ چین بھی اہمیت کا حامل رہا۔ پاک-چین اعلامیہ امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا، اور چار وزرائے خارجہ کے اجلاس اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کو عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے حوالے سے ٹویٹ کیا، جسے صدر ٹرمپ نے ری ٹویٹ کیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ تمام سربراہان مملکت کے ساتھ وزیراعظم کی بات چیت جاری رہی اور پاکستان امن کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ چند دن قبل وزیراعظم کی ایرانی صدر سے کافی دیر تک گفتگو ہوئی، جس سے پاکستان اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے پاکستان کو اس مقام پر لانے کے لیے سخت محنت کی۔ عطاء تارڑ نے کہا کہ اس وقت بھارت کافی پریشان ہے اور بھارتی وزیر خارجہ اب غیر مناسب زبان استعمال کر رہے ہیں۔
وٹکوف کے براہ راست پیغامات موصول ہو رہے ہیں، تاہم باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے: ایرانی وزیر خارجہ
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف بھی اس معاملے میں کافی حد تک پریشان ہے، کیونکہ پی ٹی آئی نے اپنی سیاست کے لیے خارجہ پالیسی کو داؤ پر لگایا، اس لیے اب ان کی مداخلت غیر ضروری ہے۔ خطے میں کشیدگی شروع ہونے کے باوجود پاکستان نے سپلائی میں کسی تعطل کو نہیں آنے دیا، کیونکہ پاکستان کا 80 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے آتا ہے اور ملک میں تیل کی وافر مقدار موجود ہے۔ ایران کے ساتھ رابطے جاری رہے اور زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کمی کی گئی۔
عطاء تارڑ نے بتایا کہ 60 فیصد گاڑیوں کو عارضی طور پر گراؤنڈ کیا گیا اور 129 ارب روپے کی سبسڈی کے ذریعے تیل کی قیمتوں میں توازن برقرار رکھا گیا۔ بروقت فیصلوں اور کوششوں کی بدولت ملک میں پیٹرول کی کمی نہیں ہوئی۔ انہوں نے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ پی کے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی، جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ باقی صوبوں کے لیے بھی تعاون جاری رہے گا، اور ہر صوبہ پاکستان کے اقدامات میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔ وفاقی بجٹ صوبوں کے لیے کم ہے، لیکن صوبے خود فنڈز فراہم کر سکتے ہیں اور اسپیشل فنڈز بنانے کا آپشن بھی موجود ہے، حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے وفاق کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں، اور عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکٹرک وہیکلز حکومت کی ترجیح ہیں۔ پاکستان میں گیس اور تیل کی قلت نہیں ہے اور غریب افراد سولر نیٹ میٹرنگ میں شامل نہیں ہوتے۔