میر رضا کے اکاؤنٹنٹ کے بزنس سے معتعلق اہم انکشافات
میر رضا گمشدگی کیس: اکاؤنٹنٹ عمیر خان کا جوڈیشل کمیشن میں بیان
میر رضا گمشدگی کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے میر رضا کے اکاؤنٹنٹ عمیر خان نے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔ کمیشن نے ان سے میر رضا کے کاروبار، مالی معاملات اور ان کے ساتھ پیشہ ورانہ رابطے سے متعلق مختلف سوالات کیے۔
عمیر خان نے بتایا کہ وہ 2024 سے میر رضا کے کاروبار کے ٹیکس ریٹرنز فائل کر رہے تھے، جبکہ اکاؤنٹس اور فنانس سے متعلق ڈیٹا بھی پراسیس کیا جاتا تھا۔ ان کے مطابق 2 جولائی 2026 کو فنانسنگ کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔
کمیشن کے استفسار پر اکاؤنٹنٹ نے بتایا کہ 16 جولائی کو نارتھ ناظم آباد برانچ میں ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کاروبار کا آڈٹ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا اور اس وقت ایک ماہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا، اس لیے نامکمل ڈیٹا کی بنیاد پر کاروبار کے منافع کے بارے میں حتمی رائے دینا مشکل تھا۔
کاروبار میں توسیع سے متعلق سوال پر عمیر خان نے بتایا کہ میر رضا نے کیٹرنگ کے کاروبار سے متعلق منصوبے کا ذکر کیا تھا۔
کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی میر رضا کو پریشان دیکھا تھا۔ عمیر خان کے مطابق ان کا میر رضا سے رابطہ زیادہ تر واٹس ایپ گروپ تک محدود تھا۔
میر رضا کے گمشدگی کے بعد ہونے والے رابطوں کے بارے میں عمیر خان نے بتایا کہ عبداللہ نے انہیں میر رضا کی گمشدگی سے آگاہ کیا تھا، جبکہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے سلسلے میں انہوں نے خود احمد سے رابطہ کیا۔
پولیس کی جانب سے بیان ریکارڈ کیے جانے کے سوال پر عمیر خان نے کہا کہ شاید 22 اگست کو ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔
جبران ناصر کے سوال پر عمیر خان نے بتایا کہ رضا فنانس کے دونوں پارٹنرز سے ان کی ملاقات ہمیشہ مشترکہ طور پر ہوئی اور وہ کبھی کسی ایک پارٹنر سے الگ نہیں ملے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے علم کے مطابق کسی پارٹنر سے کوئی بات الگ سے نہیں کی گئی۔
عمیر خان نے میر رضا کے بارے میں کہا کہ وہ لڑائی جھگڑے یا بداخلاقی والے فرد نہیں تھے۔
جوڈیشل کمیشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں مزید کارروائی جاری رکھے گا۔