وزیراعظم شہباز شریف کی کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
امریکی صدر کی مقبولیت کی شرح ان کے سیاسی کیرئیر کی کم ترین سطح 33 فیصد تک گرگئی
وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات پُرتپاک اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس میں دونوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات کے دوران جون میں صدر پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
ایرانی صدر نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں، جبکہ اس کا مقصد خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانا اور علاقائی ممالک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے ثالثی کے عمل میں پاکستان کے فعال اور تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم ممالک متحد ہوں تو اسرائیل ان پر اتنی آسانی سے حملہ آور نہیں ہوگا۔ مسلم ممالک کے پاس باہمی گفتگو اور تعاون کے ذریعے مسائل کا حل نکالنے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ مسلم دنیا کے اتحاد کو مضبوط بنانے کی جانب ایک قدم ہے، جبکہ دیگر علاقائی اور مسلم ممالک بھی اس میں شامل ہو کر تعاون کو مزید بڑھائیں گے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف کی ازبکستان کے صدر سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔