کیا آپ جانتے ہیں کہ والدین کی صحت آپ کے مستقبل کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتی ہے؟
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ جن خاندانوں میں والدین کی عمریں طویل ہوتی ہیں، خصوصاً ایسے افراد جن کی عمر 100 سال یا اس سے زیادہ ہو، ان کے بچے بھی بڑھاپے میں زیادہ صحت مند رہتے ہیں۔
جرنل جاما نیٹ ورک میں شائع ہونے والی تحقیق میں جائزہ لیا گیا کہ 100 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے بچے عمر بڑھنے کے ساتھ کس حد تک صحت مند رہتے ہیں۔
محققین یہ جاننا چاہتے تھے کہ جن خاندانوں میں طویل العمری عام ہے، کیا ان کی آئندہ نسلوں میں بھی لمبی عمر موروثی طور پر منتقل ہوتی ہے یا نہیں۔
اس تحقیق میں 3 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن میں مجموعی طور پر 4030 افراد شامل تھے۔
ان میں سے 2319 افراد ایسے تھے جن کے والدین میں سے کسی ایک کی عمر 100 سال تھی، جبکہ دیگر افراد کے والدین کی عمر اتنی طویل نہیں تھی۔
مکہ دفاعی معاہدے کی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا، فیلڈ مارشل عاصم منیر ترکیے پہنچ گئے
ان افراد کی مانیٹرنگ کی گئی اور عمر بڑھنے کے ساتھ لاحق ہونے والے طبی مسائل، امراض قلب، کینسر، ہائی بلڈ پریشر اور فالج سمیت مختلف بیماریوں کا جائزہ لیا گیا۔
عام طور پر جن افراد کی عمر 100 سال یا اس سے زیادہ ہوتی ہے، انہیں عمر کے ساتھ لاحق ہونے والی بیماریوں کا سامنا کافی تاخیر سے ہوتا ہے، جبکہ کچھ افراد کو ان میں سے کسی بیماری کا سامنا بھی نہیں ہوتا۔
ایسے افراد کے بچوں کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ ان میں درمیانی عمر میں موت کا خطرہ 43 فیصد، امراض قلب کا خطرہ 33 فیصد اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 32 فیصد تک کم ہوتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ایسے افراد کو مختلف بیماریوں کا سامنا نسبتاً زیادہ عمر میں ہوتا ہے۔
البتہ والدین کی طویل العمری سے بچوں میں کینسر کے خطرے میں کوئی نمایاں کمی نہیں آتی، جبکہ فالج کا خطرہ کسی حد تک کم ہوجاتا ہے۔
محققین کے مطابق نتائج سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ والدین کی طویل عمر کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بچوں کی عمر بھی لازماً انہی کی طرح طویل ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے خاندانی عادات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، جیسے والدین کی غذائی عادات، جسمانی سرگرمیاں اور تمباکو نوشی سے گریز وغیرہ، جنہیں بچے بھی اپنا لیتے ہیں۔