واشنگٹن: امریکی فوج کے سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈین ڈرسکول اور وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان طویل عرصے سے اختلافات جاری تھے، جس کے بعد ڈرسکول نے آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا۔ وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دوست بھی ہیں۔
انتخابات میں فوج تعینات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: امریکی جنرل ڈین کین
امریکی میڈیا کے مطابق ڈین ڈرسکول کے استعفے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی، جبکہ امریکی فوج نے بھی فوری طور پر اس معاملے پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔ ڈرسکول کے ترجمان کی جانب سے بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
اس سے قبل پیٹ ہیگسیتھ نے اپریل میں اچانک جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جبکہ یورپ اور افریقا میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈونا ہیو نے جون میں غیر متوقع طور پر استعفیٰ دے دیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا ہے کہ سیکرٹری ڈرسکول نے ’امریکا کو دوبارہ مضبوط بنانے‘ کے صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے تاریخی فوجی آپریشنز کے دوران شاندار قیادت کا مظاہرہ کیا، روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں معاونت کی اور دیگر اہم خدمات انجام دیں۔