Gas Leakage Web ad 1

پمز واقعہ: وزیراعظم نے سیکرٹری صحت کو عہدے سے کیوں ہٹایا؟ وجہ سامنے آگئی

0

اسلام آباد: ایک باخبر ذریعے کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے پمز اسپتال کے شعبہ اطفال کے آئی سی یو میں آتشزدگی اور اس کے نتیجے میں 14 بچوں کی ہلاکت کے بعد وفاقی سیکرٹری صحت کو مبینہ ناکامی پر عہدے سے ہٹا دیا گیا، کیونکہ انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے اسلام آباد کے اسپتالوں، بالخصوص پمز، کے معائنے کی بار بار دی جانے والی ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔

Gas Leakage Web ad 2

ذریعے کے مطابق وزیراعظم نے متعدد مرتبہ سیکرٹری صحت کو ہدایت کی تھی کہ وہ خود اسپتالوں کا دورہ کریں اور موقع پر صورتحال کا جائزہ لیں، جس میں علاج معالجے کا معیار، دستیاب سہولیات اور مریضوں کے لیے مجموعی انتظامات شامل تھے۔
80 سال سے زائد عرصے سے گم آبدوز کو غوطہ خوروں نے دریافت کرلیا
ذریعے کا کہنا تھا کہ وفاقی سیکرٹری صحت کو خصوصی طور پر جدید ترین آلات اور الیکٹرو میڈیکل آلات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی تھی، تاہم سیکرٹری مطلوبہ دورے نہیں کر سکے۔

ذریعے کے مطابق وزیراعظم نے پمز سانحے سے 4 روز قبل بھی سیکرٹری صحت کو یہی ہدایت جاری کی تھی، لیکن اسپتال کا دورہ نہ ہو سکا۔ آئی سی یو میں آتشزدگی کے نتیجے میں بچوں کی ہلاکت کے بعد وزیراعظم نے فوری طور پر سیکرٹری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ تاہم، فوری کارروائی کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں کہ سانحے کی ذمہ داری کا مکمل تعین کرلیا گیا ہے۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیٹی سے توقع ہے کہ وہ اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، تاہم جمعہ کی شام تک رپورٹ کا انتظار تھا۔ کمیٹی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مختلف سطحوں پر ہونے والی کوتاہیوں کی نشاندہی اور ذمہ داری کا تعین کرے گی، جس کے بعد مزید کارروائی کی جاسکتی ہے۔

اب یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا مزید افسران کے خلاف بھی کارروائی ہوگی اور آیا انکوائری کے بعد وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ وزیر صحت کے حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ معاملہ بڑی حد تک انکوائری کمیٹی کی سفارشات اور اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا وہ وفاقی وزیر یا دیگر حکام کو ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ تاہم، ذریعے نے نشاندہی کی کہ سنگین انتظامی ناکامیوں کے معاملات میں اعلیٰ حکام کو عموماً فوری طور پر، پہلے 24 گھنٹوں کے اندر، عہدوں سے ہٹا دیا جاتا ہے، جبکہ اس کے بعد کی کارروائی عام طور پر انکوائری کے نتائج سامنے آنے کے بعد کی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر صحت بھی مختلف حلقوں کی جانب سے دباؤ کا شکار ہیں اور بچوں کی ہلاکت کے بعد ان سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، فی الحال اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی کہ انہیں استعفیٰ دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ لہٰذا انکوائری رپورٹ اس بات کا تعین کرنے میں انتہائی اہم ہوگی کہ آیا سیکرٹری صحت کو ابتدائی طور پر عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد دیگر حکام کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، جن میں پمز کی انتظامیہ اور انتظامی امور کے ذمہ دار افسران بھی شامل ہیں۔

اس سانحے نے بڑے سرکاری اسپتالوں میں موجودہ نگرانی کے نظام کی مؤثریت اور اس سوال کو بھی اجاگر کیا ہے کہ آیا اعلیٰ حکام اہم نگہداشت کی سہولیات کی صورتحال کی مناسب نگرانی کر رہے تھے یا نہیں۔

حکومت کا فوری ردعمل سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹانے کی صورت میں سامنے آیا، تاہم احتساب کا دائرہ اس وقت مزید واضح ہوگا جب انکوائری کمیٹی اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.