پاور ڈویژن نے درآمدی کوئلے کی خریداری کے طریقہ کار میں خامیوں کی نشاندہی کردی۔

پاور ڈویژن کے مطابق درآمدی کوئلے کی خریداری سے متعلق نیپرا کو نئی اصلاحی گائیڈ لائنز جاری کردی گئی ہیں، نئی گائیڈ لائنز کے تحت خریداری کے ابتدائی مرحلے میں سالانہ 380 ملین روپے کی بچت ہوگی۔
وزیر توانائی اویس لغاری کی زیر صدارت کوئلے کی خریداری سے متعلق متعدد اجلاس ہوئے، جن میں کوئلے کی خریداری کا اصل ڈیٹا، کنٹریکٹس اور مارکیٹ میں رائج طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔
دورہ ایران میں فیلڈ مارشل کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں، کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کھولنے پر تبادلہ خیال
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ حکومت درآمدی کوئلے کی خریداری کے شعبے میں اصلاحات کا عمل شروع کر رہی ہے، کوئلے کی درآمد اور ترسیل کے شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں، جبکہ کوئلے کی خریداری کے لیے بہترین دستیاب رعایت کا اصول متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق کول پاور پلانٹس کو کم ڈسکاؤنٹ دینے والے عالمی سپلائر سے کوئلہ خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سے قبل مختلف پاور پلانٹس ایک ہی کول سپلائر سے مختلف رعایتیں حاصل کرتے رہے، کوئلے کی خریداری پر مختلف پاور پلانٹس کو 25 سینٹ سے 7.12 ڈالر فی ٹن تک مختلف رعایتیں ملیں۔ ایک ہی سپلائر نے مختلف پاور پلانٹس کو کوئلے پر مختلف رعایتیں دیں، جبکہ بعض بیک اپ سپلائی معاہدوں میں مرکزی سپلائی معاہدوں سے زیادہ رعایت حاصل کی گئی۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ کول پاور پلانٹس نے معاہدے کے باوجود زیادہ رعایت دینے والے سپلائر سے کوئلہ نہیں خریدا، جس کے باعث کوئلے کی خریداری کی اضافی لاگت براہِ راست بجلی صارفین پر منتقل ہو رہی تھی۔
اس حوالے سے وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن ڈیٹا اور مارکیٹ کے تجزیے کے ذریعے خامیوں کی نشاندہی کر رہا ہے، جبکہ خامیوں کو مؤثر ریگولیٹری اور پالیسی اقدامات کے ذریعے دور کیا جا رہا ہے۔
اویس لغاری کا کہنا ہے کہ اصلاحاتی اقدامات سے ہونے والی بچت کا براہِ راست فائدہ بجلی صارفین تک پہنچایا جائے گا، کوئلے کی خریداری میں مداخلت کا مقصد تجارتی معاملات میں دخل اندازی نہیں، بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی لاگت بجلی صارفین سے وصول کی جاتی ہے، اس لیے ایندھن کی خریداری مؤثر اور شفاف ہونی چاہیے۔ پاور ڈویژن کا مقصد غیر ضروری اخراجات ختم کرکے بجلی صارفین کو حقیقی ریلیف دینا ہے۔



