مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا ساتویں روز میں داخل ہوگیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے باہر چلے جائیں تاکہ انہیں بہتر روزگار مل سکے، خواتین ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں، حکومت نے بچیوں سے ان کا بنیادی حق ہی چھین لیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز کے مارجن میں 14 فیصد اضافہ کر دیا گیا
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ڈاکٹر بننے والی بچیوں کو بھی ہاؤس جاب میں پورا حصہ نہیں ملتا۔ مریم نواز نے خواتین کو ٹرمینیٹ کیا، پھر انہیں دھمکایا بھی کہ ہمارے خلاف نہیں بولنا۔ اسکول آپ نے بیچ دیے ہیں، وہ ہمارے ٹیکسوں سے بنے تھے۔ ہمارے حق پر ڈاکہ مار کر اپنی عیاشیاں چل رہی ہیں۔ خطے میں کوئی اتنی تیزی سے قیمتیں نہیں بڑھاتا جیسے پاکستان بڑھاتا ہے۔ لیوی ختم نہیں کرسکتے تو ہم دھرنا نہیں ختم کرسکتے۔ ہم جلد مہم چلانے لگے ہیں، لانگ مارچ کا بھی آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ کوالٹی ایجوکیشن ہمارا بھی حق ہے، اس کے لیے ہم دھرنے دیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تعلیم و علاج کی سہولت نہ دو، روزگار نہ دو، بس پیرا فورس آئے اور اٹھا کر سب لے جائے۔ جماعت اسلامی عوام کے لیے میدان میں نکلی ہے، یہ تو شروعات ہے، جدوجہد کا آغاز ہے، یہ دھرنا طویل ہوتا جائے گا، اب حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ وہ کہتے ہیں یہ کیسے کریں، آپ اپنا جہاز اور بڑی گاڑیاں بیچ دو۔ بنوقابل پروگرام میں 17 لاکھ طالب علم کام کررہے ہیں، ہم حق کے لیے لڑ رہے ہیں، ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ آپ کا اور پوری قوم کا مقدمہ ہے، مریم نواز، ان کے والد اور چاچا جان سمیت سارا خاندان غور سے دیکھ لیں۔ انہوں نے اتنے سالوں میں کیا سلوک کیا جو خواتین باہر نکلی ہیں۔ آج دھرنے کا ساتواں روز ہے، حکومت اپنی ٹھٹائی چھوڑ دے۔ عورتیں خوشی خوشی نوکریاں نہیں کرتیں، خواتین خود میدان میں آتی ہیں مگر یہ نظام انہیں سہولیات فراہم نہیں کرتا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ یہ صوبہ پنجاب جس کی وزیراعلیٰ خود خاتون ہیں، یہاں خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں۔ 1600 سے زائد خواتین کے ساتھ زیادتی کے کیس رپورٹ ہوئے، بہت سے کیس ایسے ہیں جو سامنے ہی نہیں آتے۔ بچیوں کے اسکول پرائیویٹ کردیئے ہیں۔ پوری دنیا کے سامنے یہ تماشہ کرتے ہیں کہ ہم بہت آزاد خیال ہیں، مگر یہی حکومت سب سے زیادہ خواتین کے حقوق پامال کررہی ہے۔