معدے کا کینسر سرطان کی پانچویں سب سے عام قسم ہے جبکہ اموات کے لحاظ سے یہ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔
تمباکو نوشی، معدے کے ورم اور موٹاپے کو بھی اس کینسر کا خطرہ بڑھانے والے عوامل میں شامل کیا جاتا ہے۔
کینسر کی یہ قسم جوان افراد، یعنی 50 سال سے کم عمر لوگوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے، حالانکہ ماضی میں اسے عمر رسیدہ افراد کا مرض سمجھا جاتا تھا۔
اب ایک نئی تحقیق میں اس کینسر کے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ سامنے آئی ہے، اور وہ میٹھے مشروبات، جیسے سافٹ ڈرنکس کا استعمال ہے۔
امریکا نے کم لاگت کروز میزائلوں کی تیاری بڑھانے کی کوششیں تیز کردیں
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
ماس جنرل بریگھم کینسر انسٹیٹیوٹ کی اس تحقیق میں ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد کے طبی اور غذائی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
ان افراد کی غذا اور مشروبات کے استعمال کی تفصیلات حاصل کی گئیں جبکہ جسمانی وزن، جسمانی سرگرمیوں، تمباکو نوشی، الکحل کے استعمال، ادویات اور دیگر طبی مسائل کے ڈیٹا کو بھی مدنظر رکھا گیا۔
ان افراد کی صحت کا جائزہ کئی دہائیوں تک لیا گیا تھا، جس سے محققین کو میٹھے مشروبات کے استعمال اور کینسر کی تشخیص کے درمیان تعلق جاننے میں مدد ملی۔
تحقیق میں شامل 278 افراد میں معدے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ صرف ایک میٹھے مشروب یا سافٹ ڈرنک کا استعمال معدے کے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ دوگنا سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں میٹھے مشروبات کے استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معدے کے کینسر کے باعث دنیا بھر میں بہت زیادہ اموات ہوتی ہیں، تاہم اس حوالے سے بہت کم تفصیلات موجود ہیں کہ ہماری غذا اس بیماری کے خطرے میں کیا کردار ادا کرتی ہے۔
ماضی میں ہونے والی تحقیقی کاوشوں میں میٹھے مشروبات اور کینسر کی دیگر اقسام، جیسے آنتوں، بریسٹ اور جگر کے کینسر کے درمیان تعلق بھی دریافت ہوچکا ہے۔
معدے کا کینسر معدے کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے اور اگر اس کی شدت بڑھ جائے تو اس سے نجات حاصل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کسی حد تک محدود ہیں، اس لیے اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اس تحقیق کے نتائج Gastro Hep Advances جرنل میں شائع ہوئے۔