پیٹ اور کمر کے گرد جمع ہونے والی چربی کو طبی زبان میں ویسرل فیٹ کہا جاتا ہے۔
توند کی چربی جسمانی چربی کی خطرناک اقسام میں شامل ہوتی ہے کیونکہ یہ جسم کے اہم اعضا کو ڈھانپ لیتی ہے۔
اس چربی کے نتیجے میں امراض قلب، ذیابیطس اور دیگر سنگین طبی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
توند نکلنے کے لیے ضروری نہیں کہ جسمانی وزن بہت زیادہ ہو، دبلے پتلے افراد کا پیٹ بھی باہر نکل سکتا ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ اس چربی کو گھٹانا بہت زیادہ مشکل نہیں، بس کافی پینا عادت بنالیں۔
یہ بات فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
Oulu یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کافی پینے کے عادی افراد کا جسمانی وزن صحت مند رہتا ہے اور توند کی چربی کم ہوتی ہے۔
اس تحقیق میں 2264 افراد کو شامل کیا گیا، جن کی اوسط عمر 46 سال تھی اور وہ ناردرن فن لینڈ کے ایک سروے کا حصہ تھے جو 1966 سے جاری ہے۔
تحقیق کے دوران ان افراد کی کافی پینے کی عادت اور اس کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ کیا گیا۔
آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت بلوچستان میں کارروائیاں جاری،مزید 5 دہشت گرد ہلاک
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد کافی پینے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں کافی نہ پینے والے افراد کے مقابلے میں توند کی چربی اور مجموعی جسمانی چربی کم ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق کافی کے استعمال سے ایسے امینو ایسڈز کا اجتماع کم ہوتا ہے جنہیں انسولین کی مزاحمت اور ٹائپ 2 ذیابیطس سے منسلک کیا جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ مردوں کو کافی پینے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے گلوکوز اور انسولین کی سطح متوازن رہتی ہے جبکہ ہارمونز کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
خواتین کے ہارمونز پر یہ اثر زیادہ نمایاں نہیں ہوتا۔
محققین نے بتایا کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ کافی پیتے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر ہم اب بھی اس گرم مشروب کے ہارمونز اور میٹابولزم پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ کافی ایسا مشروب ہے جو ہماری میٹابولک صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب اس حوالے سے مزید تحقیق میں دیکھا جائے گا کہ کافی سے جسم کے اندر کون سی حیاتیاتی تبدیلیاں آتی ہیں اور کون سے مرکبات اس حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج یورپین جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔