وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن میں تھے تو مؤقف تھا کہ صحت کے معاملے پر سیاست نہیں کی جائے اور آج حکومت میں ہیں تو بھی یہی مؤقف ہے کہ صحت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، لیکن جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور معاملے کو سیاست کی نظر کیا جا رہا ہے۔ صحت کے معاملات میں سیاست کو نہیں لانا چاہیے۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی لوگوں کی صحت کے حوالے سے تضحیک آمیز گفتگو کرتے تھے، آج بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے حکم آیا تو ہم نے توہین آمیز رویہ نہیں اپنایا بلکہ نظرثانی درخواست میں پوچھا گیا کہ کیا یہ سہولت ہر قیدی کو میسر ہے؟ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہوا اور بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کرایا گیا، بانی پی ٹی آئی کی بہن اور شفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
کابینہ ڈویژن نے قومی کرکٹرز کی تنخواہیں اور مراعات سینیٹ کو بتانے سے انکار کر دیا، لیکن کیوں؟
عطا تارڑ نے کہا کہ انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنایا اور حکم کے تمام لوازمات پورے کیے گئے۔ تحریک انصاف کا انصاف سے تعلق نہیں ہے، توہین عدالت کی بے بنیاد درخواست دائر کی گئی۔ حقائق قوم کے سامنے رکھے اور عدالتی حکم پر تمام چیزیں لے کر چلے۔ شفا ہسپتال کے باہر ٹولیوں میں لوگ کس نے جمع کیے؟ عدالت نے کہا تھا کہ سیاست نہیں کی جائے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی اور پارٹی توہین عدالت کی مرتکب ہوئی۔ پہلی بار ہوا کہ کسی جماعت نے اپنے بانی کے علاج میں رخنہ ڈالا اور اگر پی ٹی آئی بانی کا علاج چاہتی تھی تو راستے میں رکاوٹیں کیوں کھڑی کی گئیں؟ سیاست اور بیان بازی ہوئی، سیکیورٹی میں بھی رخنہ ڈالا گیا۔ توہین عدالت کس نے کی، یہ سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے ایجنڈے کے لیے بار کونسلز کو استعمال نہ کرے۔ بار کونسلز کی جانب سے اعلامیے جاری کیے گئے ہیں، انہیں اس معاملے سے دور رکھا جائے۔ چند وکلا نے پی ٹی آئی کی سیاست کے لیے اعلامیے جاری کیے۔ عدالتی حکم کے مطابق پمز ہسپتال میں طبی معائنہ کرایا گیا اور عدالتی حکم کی ہر ایک شق پر عمل کیا گیا۔