وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال چھٹے روز میں داخل ہوگئی ہے، جس کے اثرات بڑے شہروں کی منڈیوں میں نمایاں ہونے لگے ہیں۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کے عہدیداران نے ہڑتال کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا ہے، جبکہ لاہور میں منی مزدا ایسوسی ایشن نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے۔
بیوی کی بچپن کی یاد سن کر شوہر نے پھولوں کا ایک بہت بڑا باغ تیار کر دیا
گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے اثرات بڑے شہروں کی منڈیوں میں واضح نظر آرہے ہیں۔ لاہور میں مال بردار گاڑیوں کی آمد 100 سے کم ہوکر 10 تک رہ گئی ہے، جس کے باعث سبزیوں، آٹے اور دالوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
پشاور میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 150 روپے اضافے کے بعد 3 ہزار 150 روپے کا ہوگیا ہے، جبکہ دالوں کی قیمت میں بھی 15 سے 20 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔
کوئٹہ میں پیاز کی فی کلو قیمت 100 روپے سے بڑھ کر 180 روپے ہوگئی ہے، جبکہ مرغی کی قیمت میں 50 روپے اضافہ ہونے کے بعد 550 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب کراچی میں چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے سبزیوں کی ترسیل جاری ہے۔
ہڑتال کے باعث ملکی برآمدی شعبے کو تیار مصنوعات بندرگاہوں تک پہنچانے میں دشواری کا سامنا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کے صدر نبیل محمود طارق کا کہنا ہے کہ حکومت سے مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہیں، حکومت ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل ختم کرنے پر تیار نہیں، اس لیے ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔