ویسے تو کہا جاتا ہے کہ اچھی صحت کے لیے غذائی معیار پر توجہ دینا ضروری ہے، تاہم ناشتے کا وقت بھی صحت کے حوالے سے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ یورپین جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ صبح ناشتے کا وقت اوسط عمر میں اضافے یا کمی سے تعلق رکھتا ہے۔
تحقیق میں 31 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن کی عمریں 40 سال یا اس سے زیادہ تھیں۔ یہ ڈیٹا 1999 سے 2018 کے درمیان جمع کیا گیا تھا، جبکہ ان افراد کی صحت کا جائزہ 8.6 سال تک لیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دیر سے ناشتہ کرنے کی عادت اور اوسط عمر میں کمی کے درمیان تعلق موجود ہے۔ اس عرصے کے دوران 7 ہزار 129 افراد کا انتقال ہوا، جن میں سے 2 ہزار 259 افراد کی موت امراض قلب کے باعث ہوئی۔
تحقیق کے مطابق صبح 7 سے 8 بجے کے بجائے دیر سے ناشتہ کرنے والے افراد کی اوسط عمر میں تقریباً 2.46 سال کی کمی دیکھی گئی، جبکہ کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 29 فیصد تک بڑھ گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ صبح 8 سے 10 بجے کے درمیان ناشتہ کرنے سے موت کا خطرہ 19 فیصد جبکہ دوپہر کے قریب دن کی پہلی غذا لینے سے یہ خطرہ 29 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ دوپہر کے بعد پہلی غذا استعمال کرنے سے امراض قلب کے باعث موت کا خطرہ 46 فیصد تک بڑھنے کا تعلق سامنے آیا۔
محققین کے مطابق کھانے کا وقت جسم کی اندرونی گھڑی کے افعال کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ دیر سے ناشتہ کرنے یا رات گئے کھانا کھانے سے جسم کی اندرونی گھڑی کے افعال متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ میٹابولک امراض کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
یہ پہلی تحقیق نہیں جس میں اس حوالے سے نتائج سامنے آئے ہیں۔ کچھ عرصے قبل جرنل کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ دیر سے ناشتہ یا کھانا کھانے سے گلوکوز کے افعال اور چربی کے ٹشوز متاثر ہوتے ہیں۔
اسی طرح بیلور کالج آف میڈیسن کی ایک تحقیق میں بھی دریافت کیا گیا تھا کہ ناشتہ نہ کرنے اور رات گئے کھانا کھانے سے میٹابولک امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
نئی تحقیق میں شامل محققین نے بتایا کہ نتائج کسی حد تک محدود ہیں کیونکہ تحقیق میں لوگوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر انحصار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔



