بیوی کی بچپن کی یاد سن کر شوہر نے پھولوں کا ایک بہت بڑا باغ تیار کر دیا
بیوی کے ایک عام سے جملے سے متاثر ہوکر ایک شخص نے ایک بنجر وادی کو پھولوں سے بھرے باغ میں تبدیل کردیا۔
80 ایکڑ کے رقبے پر واقع یہ وادی چین کے صوبے سیچوان کے شہر چینگڈو میں موجود ہے۔
زاؤ شیاؤلن اور ان کی اہلیہ ین جائی اب پھولوں سے بھری وادی میں مقیم ہیں، جو ان کا باغ بن چکی ہے۔
نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ اور تقرری، جامعہ نے دو الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کردیے
زاؤ شیاؤلن کو اس کا خیال 2013 میں اس وقت آیا جب ین جائی نے بیجنگ میں گزارے گئے بچپن کی یادوں کے بارے میں بتاتے ہوئے پھولوں کے لیے اپنی محبت کا اظہار کیا۔
یہ سن کر زاؤ شیاؤلن کے اندر اس خیال کو حقیقت بنانے کا جذبہ پیدا ہوا اور انہوں نے اہلیہ کے لیے ایک باغ تیار کرنے کا وعدہ کیا۔
زاؤ شیاؤلن کو باغبانی کا کوئی تجربہ نہیں تھا، مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنا گھر فروخت کرکے Zhuanlong نامی قصبے میں زمین خریدی اور پھولوں کو اگانے کی تربیت خود حاصل کی۔
گزرے برسوں کے دوران وہ مقامی اور بین الاقوامی سطح سے بیج حاصل کرتے رہے۔
ایک دہائی سے زائد محنت کے بعد وہ اس مقام کو مکمل طور پر بدلنے میں کامیاب ہوگئے اور اب اسے دنیا کا سب سے بڑا ہولی ہاک پھولوں کا باغ قرار دیا جا رہا ہے۔
عوام کے لیے کھلے باغ میں اس پھول کی 700 سے زائد اقسام موجود ہیں، جبکہ لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ گلِ سوسن اور ایک لاکھ چینی ہبسکس کے پودے موجود ہیں۔
زاؤ شیاؤلن کے مطابق ان کی اہلیہ اور پھول ان کی زندگی کو خوبصورت بنانے والے 2 اہم ترین ذرائع ہیں۔
اس جوڑے کی شادی کو 35 سال ہوچکے ہیں اور ان کا کوئی بچہ نہیں۔
اب وہ متعدد بلیوں اور کتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور اب بھی سالگرہ یا اہم مواقع پر ہاتھ سے لکھے خطوط کا تبادلہ کرتے ہیں۔