وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے، جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی گفتگو کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات کو اجاگر کرنا ہے۔ ان کے بقول گزشتہ چھ برسوں کے دوران عوام کی آمدن میں کمی آئی ہے، جبکہ ہر گھرانے کی قوتِ خرید میں 14 فیصد تک کمی ہو چکی ہے، جس کے باعث ملک کا ہر گھرانہ مزید غربت کا شکار ہوا ہے۔
آزاد کشمیر انتخابات: مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں پر 208 امیدوار مدقابل
سربراہ عوام پاکستان پارٹی نے کہا کہ چند سال پہلے فی کس ٹیکس کا بوجھ تقریباً 30 ہزار روپے تھا، جو اب بڑھ کر 60 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ بے روزگاری کی شرح گزشتہ 21 برس کی بلند ترین سطح پر ہے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کے اپنے اعدادوشمار بھی غربت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ان کے مطابق اصل صورتحال سرکاری دعوؤں سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ واضح معاشی پالیسیوں کا فقدان ہے، جس کے باعث سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے پاکستان آنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بجلی، گیس، پٹرول اور ڈیزل سمیت بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ آٹا، گوشت، دال اور مرغی کی کھپت میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
سربراہ عوام پاکستان پارٹی نے غذائی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی، یعنی سٹنٹنگ، کا شکار ہیں، 25 فیصد بچوں کو بنیادی ویکسین بھی دستیاب نہیں، جبکہ ہزاروں بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عوام کی خوراک کا بڑا حصہ آٹے پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن گندم سے متعلق پالیسیوں میں بدانتظامی کے باعث کسان اور عوام دونوں متاثر ہوئے، جبکہ اس کا فائدہ صرف مڈل مین کو پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال نئے نئے تجربات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، شفاف نظام، مؤثر اصلاحات اور موروثی سیاست کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو آزادانہ فیصلے کا حق دیا جائے اور سیاسی انتقام، ایک دوسرے پر الزامات اور جیلوں کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
سربراہ عوام پاکستان پارٹی نے کہا کہ وزیر داخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر سمیت حکومتی نمائندے بھی اب ملک کو درپیش مسائل کا اعتراف کر رہے ہیں، حالانکہ عوام کئی برسوں سے یہی صورتحال بیان کرتے آ رہے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ حکومت نمائشی اقدامات کے بجائے عملی اور حقیقی اصلاحات نافذ کرے تاکہ ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اور سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف کشمیر جانے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم ان کے مطابق ڈی ایس پی کی جانب سے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔