آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے نتائج پر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔
مظفرآباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چودھری یاسین کے حلقے میں مبینہ دھاندلی کے نتائج کسی صورت قبول نہیں کیے جا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضے اور بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگانے کے ویڈیو شواہد موجود ہیں، جبکہ انہی پولنگ اسٹیشنز پر 90 فیصد ٹرن آؤٹ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار، پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل 10 دن میں کتنا مہنگا ہوا؟
بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ چودھری یاسین کے حلقے میں دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مقابلہ ایسی جماعت سے ہے جو ان کے بقول نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی میدان میں شکست ہو تو اسے قبول کیا جا سکتا ہے، لیکن مبینہ طور پر چوری شدہ انتخابی نتائج ہرگز تسلیم نہیں کیے جائیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے تجویز دی کہ ایک سچ اور مفاہمت کمیشن قائم کیا جائے تاکہ انتخابی عمل سے متعلق تمام الزامات کی شفاف تحقیقات ہو سکیں اور حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ووٹ پر کسی کو ڈاکا ڈالنے نہیں دیا جائے گا اور یقین دلایا کہ مبینہ طور پر چھینی گئی ہر نشست واپس دلانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ وہ کشمیر کے عوام کو ان کے حقوق دلانا چاہتے ہیں، تاہم یہ جدوجہد جمہوری اور آئینی طریقے سے کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بندوق یا سڑکیں بند کرنے کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے عوام کو ان کے حقوق دلانا چاہتے ہیں۔