وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے پولنگ سے قبل آزاد جموں و کشمیر کے حلقہ ایل اے 10 کوٹلی میں دھاندلی کا الزام عائد کر دیا۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کے حلقہ ایل اے 10 کوٹلی میں پریزائیڈنگ افسر اور پٹواری کو پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری یاسین کے گھر سے پولنگ بیگز سمیت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
ایران امریکا ڈیل کی نئی اُمیدیں، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آگئی
رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل راٹھور اور چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ پریزائیڈنگ افسر اور پٹواری سے تفتیش کی جائے اور اس واقعے کا جواب دیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انکوائری کے نتائج سامنے آنے تک حلقہ ایل اے 10 میں انتخابی عمل روک دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ پولنگ بیگز کہاں کہاں منتقل کیے گئے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ثقلین اور قیصر پٹواری سے تفتیش کی جائے کہ انہوں نے مزید کہاں کہاں دھاندلی کی یہ واردات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چوہدری یاسین نہ صرف حلقے سے امیدوار ہیں بلکہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، جبکہ چوہدری یاسین کے قریبی ساتھی ثقلین کے ساتھ سرکاری گاڑی میں تین پریزائیڈنگ افسران بھیجنا انتخابی عمل کی شفافیت کو داغدار کر چکا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انکوائری کے حقائق سامنے آنے تک اس حلقے کے نتائج کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے تین اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 حلقوں میں انتخابات آج ہو رہے ہیں۔
پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔