اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے، جہاں نور خان ایئربیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وزیر داخلہ کا استقبال کیا، جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انہیں گلدستہ پیش کیا۔ اس موقع پر پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم بھی موجود تھے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کینیڈا کی کئی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف لگا دیا
ایرانی وزیر داخلہ کے ہمراہ آنے والے وفد میں گورنر جنرل سیستان و بلوچستان، نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر برائے شہری ترقی و ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ، وزیر زراعت کے خصوصی نمائندے اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
پاکستان پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسکندر مومنی نے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال بھی اس دورے کے اہم ایجنڈے میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایرانی صدر کے گزشتہ دورۂ پاکستان کے دوران متعدد امور پر اتفاق ہوا تھا، جن پر عمل درآمد ابھی باقی ہے، اور موجودہ دورے کا مقصد ان معاہدوں اور فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لینا اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق پاکستان آمد کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کے درمیان اہم ملاقات بھی ہوئی۔ اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک ایران کے وزیر داخلہ کا خیرمقدم کرتا ہے اور انہیں یقین ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں علاقائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر مثبت پیش رفت کی توقع ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اس موقع پر کہا کہ محسن نقوی سے دوبارہ ملاقات پر خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مثالی نوعیت کے ہیں اور وہ پاکستانی حکومت اور عوام کی مہمان نوازی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
دورے کے دوران ایرانی وزیر داخلہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعاون، سرحدی امور، علاقائی سلامتی اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔