Gas Leakage Web ad 1

عدالتی کارکردگی میں نمایاں پیشرفت، چھ ماہ میں لاکھوں مقدمات کا تصفیہ

0

اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سندھ، اسلام آباد اور پشاور ہائی کورٹس سے متعلق ججز کی تقرری، کنفرمیشن اور مدتِ تعیناتی میں توسیع کے حوالے سے اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔

Gas Leakage Web ad 2

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس خالد حسین شاہانی کی مدتِ تعیناتی میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی سفارش کی، جبکہ جسٹس سید فیاض الحسن شاہ کو مستقل جج بنانے کی سفارش نہیں کی گئی۔

فیلڈ مارشل سے کینیڈین وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

اعلامیے کے مطابق کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچز کی مدت میں مزید تین ماہ کی توسیع کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کے لیے تین نئے ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارش کرتے ہوئے محمد ہمایوں خان، سریش کمار اور ڈاکٹر شاہ نواز میمن کے نام تجویز کیے گئے، جبکہ مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث دو نشستوں پر تقرری نہ ہو سکی۔

جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے بھی تین نئے ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارش کی، جن میں ایاز شوکت، شہرخ ارجمند اور عمیر مجید ملک شامل ہیں۔

اعلامیے کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے چار ایڈیشنل ججز کو مستقل جج بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے، جن میں جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران سندھ، اسلام آباد اور پشاور ہائی کورٹس سے متعلق ججز کی تقرری، مدتِ تعیناتی میں توسیع اور مستقل تقرری کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد متعلقہ سفارشات منظور کی گئیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.