اسلام آباد: سینیٹر سرمد علی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خصوصی شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق 2021 کی پالیسی میں 2022 کے دوران ترامیم کی گئیں، جبکہ ڈیجیٹل میڈیا ملک میں ایک خودکفیل پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ویوز اور دیگر ڈیجیٹل اشاریوں کی تصدیق کے لیے تھرڈ پارٹی ویریفکیشن کا نظام متعارف کرایا گیا، جسے بعد ازاں مختلف صوبوں نے بھی اپنایا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کو روایتی میڈیا کی طرح مالی معاونت کی ضرورت نہیں ہوتی اور حکومت اپنی ضرورت کے مطابق اشتہارات جاری کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزارت کی اولین ترجیح میڈیا ملازمین کی فلاح و بہبود ہے اور ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے باوجود حکومت کی کوشش ہے کہ کوئی صحافی یا میڈیا کارکن بے روزگار نہ ہو۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسلام آباد کے بیٹ رپورٹرز اور صحافیوں کی فلاح ان کی ذاتی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب سنو نیوز نے اپنے بعض ملازمین کو فارغ کیا تو حکومت نے اس کے اشتہارات روک دیے، جس کے بعد ادارے نے متعدد ملازمین کو دوبارہ بحال کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (PBA) کے ساتھ ایک ایس او پی طے ہے، جس کے تحت حکومت کی جانب سے واجبات کی ادائیگی کے بعد میڈیا ہاؤسز اپنے ملازمین کے بقایا جات ادا کریں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آج 12 سال کے بچوں سے لے کر 70 سال تک کے بزرگ سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، تاہم سوشل میڈیا کا بنیادی مواد اب بھی اخبارات اور ٹیلی ویژن سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل میڈیا کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی قیمت پر فروغ نہیں دیا جا سکتا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سب سے پہلا حق اخبارات کے ڈیجیٹل شعبوں کا ہے اور اشتہارات کی پالیسی 2024 کے تحت اخبارات کی ڈیجیٹل موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔