Gas Leakage Web ad 1

گل پلازہ آتشزدگی کیس: عدالت نے مزید تحقیقات کا حکم دے دیا

0

(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک) : عدالت نے ریمارکس دیے کہ گل پلازہ میں سیفٹی رولز اور ریگولیشنز کی خلاف ورزیوں کا تعین نہیں کیا گیا، جبکہ ایس بی سی اے، سول ڈیفنس، کے ایم سی، فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 سمیت متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ نہیں لیا گیا۔

Gas Leakage Web ad 2

حکم نامے میں کہا گیا کہ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کمشنر کراچی کی رپورٹ پولیس فائل کا حصہ نہیں، تاہم حیران کن طور پر مذکورہ رپورٹ عدالتی ریکارڈ میں موجود تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ 70 سے زائد قیمتی جانیں کسی قدرتی آفت کے باعث نہیں بلکہ ممکنہ مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں ضائع ہوئیں، اس لیے ذمہ داروں کا تعین ناگزیر ہے۔

مون سون، ہیٹ ویو اور اربن فلڈنگ کا خدشہ، تمام ادارے الرٹ رہیں: مریم نواز

حکم نامے کے مطابق سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس چالان کی سکروٹنی کے دوران متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم دو مرتبہ چالان واپس کیے جانے کے باوجود تفتیشی افسر نے ان نقائص کو دور نہیں کیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ وہ پولیس کی تفتیش کو من و عن تسلیم کرنے کی پابند نہیں اور کیس میں مزید تحقیقات ضروری ہیں۔

عدالت نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو ہدایت کی کہ کم از کم ڈی ایس پی رینک کے افسر کو نیا تفتیشی افسر مقرر کیا جائے۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ گل پلازہ کا منظور شدہ نقشہ اور ریگولرائزیشن کا ریکارڈ حاصل کرکے اس کا اصل عمارت سے موازنہ کیا جائے، جبکہ یہ بھی تحقیقات کی جائیں کہ 1102 دکانیں بڑھ کر 1153 کیسے ہو گئیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ایس بی سی اے کے ذمہ دار افسران کی نشاندہی کی جائے، سول ڈیفنس سے فائر سیفٹی انسپکشن کا ریکارڈ، مارکیٹ کمیٹی کا ریکارڈ، کے ایم سی، ضلعی انتظامیہ، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور ٹریفک پولیس سے فائر آڈٹ، انسپکشن اور ریسکیو اقدامات کا مکمل ریکارڈ بھی حاصل کیا جائے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ آتشزدگی کے وقت ایمرجنسی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے سڑکیں کھلی تھیں یا نہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.