ایران پر مسلط امریکی جنگ کے دوران مختلف ممالک سے ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے والے ہزاروں کنٹینرز پاکستان میں پھنس گئے ہیں، جنہیں جلد از جلد ایران پہنچانے کے لیے ایرانی حکام متحرک ہو گئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق پاکستان کی مختلف بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز کی تعداد بڑھ کر 13 ہزار سے 18 ہزار کے درمیان پہنچ چکی ہے۔ ان کنٹینرز میں موجود سامان نجی شعبے کے تاجروں کا ہے، جو چاہتے ہیں کہ ان کی کھیپ جلد ایران پہنچے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہو سکیں، بنیادی ضروریات کی اشیا عوام تک پہنچائی جا سکیں اور صنعتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
ایف آئی ایچ پرو ہاکی لیگ: بھارت نے پاکستان کو 1-7 سے شکست دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ان کنٹینرز میں ضروری اشیائے خور و نوش، صنعتی مشینری کے پرزہ جات اور دیگر اہم سامان شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق چین سمیت مختلف ممالک سے ایران جانے والے ان کنٹینرز میں آٹوموٹیو پرزہ جات، گھریلو مشینری، زراعت اور آبپاشی کا سامان، زرعی ادویات، موبائل فون مرمت کا سامان، ہیوی ٹرکوں کے ٹائر، لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز، غذائی اجناس اور طبی و سرجیکل سامان بھی شامل ہے۔
جنگ کے دوران ایران اور دیگر ممالک کے لیے آنے والا کچھ کارگو پاکستان منتقل کیا گیا تھا، جسے کراچی پورٹ، بن قاسم پورٹ اور گوادر بندرگاہ پر رکھا گیا۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کے لیے آنے والے زیادہ تر کنٹینرز کراچی پورٹ پر موجود ہیں۔
ان کنٹینرز کی واپسی کے لیے ایرانی حکام سمندری راستے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق کنٹینرز کو پہلے گوادر منتقل کرکے وہاں سے ایران بھیجنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاہم ایرانی حکام کے مطابق کراچی سے چاہ بہار بندرگاہ تک براہ راست منتقلی وقت اور لاگت دونوں کے لحاظ سے زیادہ مناسب اور مؤثر راستہ ہے۔
ایرانی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورۂ پاکستان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی اور پاکستانی حکام کے تعاون سے یہ کنٹینرز جلد از جلد ایرانی بندرگاہوں تک پہنچائے جا سکیں گے۔