پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی ایوان میں موجود تھیں۔
اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبولؐ اور قومی ترانے سے کیا گیا۔ اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں داخل ہوتے ہی نعرے بازی شروع کر دی۔
ایران سے منصفانہ ڈیل ہوئی، انکا افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہتے ہیں: ٹرمپ
وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔ اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے قریب، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سامنے جمع ہوگئے اور "جعلی بجٹ نامنظور، نامنظور” کے نعرے لگاتے رہے، جس کے باعث ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی کا ماحول دیکھنے میں آیا۔
اپوزیشن ارکان نے "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو” کے نعرے لگائے جبکہ ان کے ہاتھوں میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ایران، امریکا امن معاہدے پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف امن معاہدے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی امن معاہدے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ نواز شریف کی رہنمائی اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ مشکل حالات میں ملک کو بحرانوں سے نکالا اور موجودہ بجٹ میں صرف آئندہ کے اہداف نہیں بلکہ گزشتہ سال کی کارکردگی کا حساب بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مالی نظم و ضبط کی پالیسی کے تحت غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی کی۔ صوبائی کابینہ اور سیکرٹریز نے تین ماہ کی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا، جبکہ اراکین اسمبلی کی دو ماہ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی گئی۔ سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فیصد کمی لا کر قومی خزانے کو بچت فراہم کی گئی۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق روزمرہ اخراجات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ مجموعی اخراجات میں صرف 3.1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جسے کفایت شعاری پالیسی کا مثبت نتیجہ قرار دیا گیا۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال 2026-27 سے صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 650 ارب روپے جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی مد میں 505 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے ٹیکس فری بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں کے لیے مجموعی طور پر ایک ہزار 155 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں مختلف سرکاری محکموں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 25 ارب 35 کروڑ روپے، بورڈ آف ریونیو کے لیے 18 ارب 95 کروڑ روپے، پولیس کے لیے 12 ارب 88 کروڑ روپے، انفارمیشن اینڈ کلچر کے لیے 6 ارب 70 کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے 78 ارب 50 کروڑ روپے، عدلیہ کے لیے 3 ارب روپے جبکہ قانون و پارلیمانی امور کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ محفوظ پنجاب ویژن کے تحت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے، جدید سہولیات کی فراہمی اور امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے مجموعی طور پر 252 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ صوبے میں مؤثر قانون نافذ کرنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ دو ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرام شروع کیا گیا جس سے اب تک 5 ہزار نوجوان مستفید ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام میں 26 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ مزید نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔
وزیر خزانہ کے مطابق سی ایم اسکلڈ پنجاب پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس پروگرام پر ایک ارب 44 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ اب تک 2 ہزار 200 افراد اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں میں اضافے، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں عالمی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی فراہمی کے لیے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ "اسکلز فار گلوبل نیڈز” پروگرام کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو تربیت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پرواز کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت اور بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ تعمیرات، صحت اور آٹوموٹیو سمیت 12 بین الاقوامی معیار کے تربیتی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔ اسکلز فار گلوبل نیڈز پروگرام سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر اضافے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ نے فرنٹیئر ٹیک اسکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا۔ جدید ایل ایم ایس پلیٹ فارم اور انکیوبیٹرز کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت فراہم کی جائے گی۔ 60 لاکھ افراد کو جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت فراہم کرنے اور 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انوویٹ پنجاب پروگرام کے تحت 1200 اسٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی جبکہ ٹیکنالوجی پروگراموں میں خواتین کی شرکت کم از کم 40 فیصد یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک اسکلز پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بوٹ کیمپس، آئی ٹی انٹرن شپ اور میکر اسپیسز کے ذریعے 70 ہزار 500 سے زائد نوجوان مستفید ہوں گے جبکہ بین الاقوامی آئی ٹی سرٹیفیکیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کی جائیں گی۔
لاہور میں سینٹر آف ایکسیلنس فار ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز قائم کیا جائے گا، جس پر 99 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ اس سینٹر میں ہر سال 400 افراد کو بین الاقوامی معیار کی فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب میں اسمارٹ سیف سٹیز منصوبے کے تحت جدید ڈیجیٹل سکیورٹی نظام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ اسمارٹ سیف سٹیز پروگرام کے تحت تحصیل سطح تک نگرانی کے جدید نظام متعارف کرائے جائیں گے جبکہ ریجنل ڈیٹا سینٹرز اور پی پی آئی سی منصوبوں کے ذریعے جدید سکیورٹی انفراسٹرکچر بھی قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 47 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے سکیورٹی اور نگرانی کے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔ ان اقدامات کا مقصد جرائم کی روک تھام، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچے کے علاقوں میں پولیس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے نئے پولیس اسٹیشنز، پولیس پوسٹس اور پولیس پکٹس کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 28 اضلاع میں جدید کرائم سین یونٹس قائم کیے جائیں گے جن پر 14 ارب 21 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کے منصوبوں کے لیے 26 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ صوبے بھر کے تحصیل ہیڈکوارٹرز میں 2 ہزار الیکٹرک بسوں کی فراہمی کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریلوے ٹریکس کی بحالی کے لیے 10 ارب روپے جبکہ نہری نظام کی بہتری اور زرعی شعبے کی معاونت کے لیے 61 ارب 14 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں رعایت 95 فیصد سے بڑھا کر 99 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سموگ کے خاتمے کے لیے رواں مالی سال میں 123 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کی واپسی کی اسکیم بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ کسان کارڈ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے اور گرین ٹریکٹر پروگرام کے لیے 16 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کم آمدن والے خاندانوں کی معاونت کے لیے سوشل سیکیورٹی راشن کارڈ پروگرام کے لیے 40 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی تنظیم نو کے لیے 2 ارب روپے، وزیراعلیٰ دھی رانی پروگرام کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے اور عافیت اولڈ ایج ہوم کے قیام کے لیے 2 ارب 6 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئمہ مساجد کی معاونت کے لیے 18 ارب 50 کروڑ روپے جبکہ اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے منیارٹی کارڈ پروگرام کی مد میں 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب کی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو رہی ہے اور صوبے کی افرادی قوت کے ساتھ ساتھ معاشی استعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "اکنامک ٹرانسفارمیشن آف پنجاب” منصوبہ صوبے کی معاشی ترقی کے لیے ایک نئے روڈ میپ کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ "گلوبل انویسٹمنٹ اینڈ گیٹ وے آف پنجاب” منصوبے کے ذریعے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے نئی لینڈ لیز پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے جبکہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو مزید مؤثر بنانے، ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور ریونیو نظام میں بہتری کے لیے اصلاحات بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ کا اہم حصہ ہیں۔